مذہب

حضور اکرم صلعم سارے عالم کے لیے رحمت – خواتین کو عزت واحترام اور بلند مقام عطافرمایا

ہر کتاب میں کہیں  نہ کہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف اوری کا ذکر موجود ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رحمت المسلمین نہیں بلکہ رحمت للعالمین یعنی ساری دنیا کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے

ایوان احمد میں محفل عصرانہ برائے خواتین سے پروفیسر اشرف رفیع  کا خطاب – شاعرات کا منظوم نذرانہ عقیدت 

 حیدرآباد  :   پروفیسر اشرف رفیع نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کے لیے بھی سراپا رحمت بن کر تشریف لائےحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور میں اپنے گھر والوں کے ساتھ سب سے اچھا سلوک کرتا ہوں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ سے ہی خواتین کو معاشرے میں عزت احترام اور بلند مقام عطا کیا اور ان کے حقوق ادا کرنے کی سختی سے تاکید  کی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر فرمایا "خبردار خواتین کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کیا کرو کیونکہ وہ تمہارے پاس قیدیوں کی مانند ہیں جنہیں تمہاری محبت شفقت اور دل جوئی کی بہت ضرورت ہے

"ان خیالات  کا اظہار انہوں نے ایوان احمد ملک پیٹ  کی  گیارہویں محفل عصرانہ میں نعتیہ مشاعرہ برائے خواتین سے صدارتی  خطاب کرتے ہوئے کیا  پروفیسر اشرف رفیع  صاحبہ نے مزید  کہا کہ دنیا  میں جتنی بھی  کتابیں قرآن مجیدسے پہلے آئی ہیں  ہر کتاب میں کہیں  نہ کہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف  اوری  کا ذکر موجود ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رحمت المسلمین نہیں بلکہ رحمت للعالمین یعنی ساری دنیا کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے حضور نے ایک بار ایک غیر مسلم کے جنازے کے گزرتے وقت کھڑے ہو گئے صحابہ نے پوچھا یا  رسول اللہ وہ تو مسلمان نہیں ہیں  آپ نے کہا کہ وہ انسان ہیں ہم کو اس کا احترام کرنا چاہیے 

پروفیسر صاحبہ نے مزید کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جسم پر کچرہ ڈالنے والی خاتون کو بھی نہ صرف معاف فرما دیا  بلکہ اس کے بیمار ہو جانے پر اس کی عیادت بھی  کی اس طرز عمل سے وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہو گئی  اور مشرف بہ اسلام ہو گئیں  پروفیسر اشرف رفیع نے پروفیسر مسعود احمد کی علمی’ ادبی اور انتظامی صلاحیتوں کو خراج تحسین ادا کیا اور کہا کہ پروفیسر مسعود علم و ادب کی  دنیا  میں کافی  قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے  جاتے ہیں انہوں نے  مذہبی کتابیں لکھ کر مذہب سے بھی اپنے خاص تعلق کو ظاہر کیا ہے یہ کافی اہمیت  کی  بات ہے

پروفیسر اشرف رفیع نے سیرت طیبہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور خواتین سے کہا کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت میں اسلامی کردار کو نمایاں کریں موجودہ نسل دین سے دور ہوتی جا رہی ہے وقت کا تقاضہ  یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو روزانہ  لازمی طور پر کچھ وقت دیں اور ان سے دین کی باتیں کریں ان کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات اور تعلیمات سے واقف کرائیں ان کو نمازوں کا پابند بنانےکے ساتھ ساتھ اپنے بڑوں اور چھوٹوں سے گفتگو کےآاداب’ اساتذہ کا احترام ‘پڑو پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک یہ سب باتوں سے واقف کروائیں جو بے حد ضروری ہیں

 کنوینر بیگم پروفیسر محمد مسعود احمد نے محترمہ پروفیسر اشرف رفیع’ محترمہ حنا شہیدی و دیگر شرکاء کا خیر مقدم کیا اور محترمہ اشرف رفیع صاحبہ کے زرین خیالات کو خواتین کے لیے مشعل راہ قرار دیا اور کہا کہ ایوان احمد علمی و ادبی اور تہذیبی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ مذہبی و اخلاقی اقدار کو پروان چڑھانے میں ہر ممکن کوشش کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ پروفیسر مسعود احمد کی کوشش یہی ہے کہ معاشرے میں صالح تبدیلیوں کے لیے ہم بھی اپنا کردار ادا کریں ممتاز و معروف شاعرہ محترمہ صبیحہ تبسم نے اپنے منفرد انداز میں نظامت انجام دی اور تمام مہمانان خصوصی اور شرکائے محفل کو شرکت کرنے پر مبارکباد بھی پیش کی پروفیسر اشرف رفیع کی صدارت میں مشاعرہ منعقد ہوا صدر مشاعرہ کے علاوہ محترمہ حنا شہیدی ‘محترمہ رفعت کنیز ‘محترمہ صائمہ متین ‘محترمہ صبیحہ تبسم’محترمہ ارجمند بانو’ محترمہ رفیعہ نوشین’ محترمہ ثمینہ بیگم’ محترمہ اوما دیوی ‘محترمہ سویتا سونی نے کلام سنایا