بھدراچلم کانگریس رکن اسمبلی ٹیلم وینکٹ راؤ کے پی اے کے خلاف مقدمہ، سرکاری ملازمتوں کے نام پر کروڑوں کی مبینہ دھوکہ دہی
متاثرین کی شکایت کے مطابق کلیان کمار نے مبینہ طور پر بے روزگار نوجوانوں کو مختلف ملازمتیں دلانے کا وعدہ کرتے ہوئے تقریباً 8 سے 10 کروڑ روپے وصول کیے۔ الزام ہے کہ ہر امیدوار سے ملازمت کی نوعیت کے مطابق لاکھوں روپے لیے گئے۔
بھدراچلم: تلنگانہ کے بھدراچلم سے کانگریس رکن اسمبلی ٹیلم وینکٹ راؤ کے پرسنل اسسٹنٹ (پی اے) کلیان کمار کے خلاف سرکاری ملازمتیں دلانے کے نام پر مبینہ طور پر کروڑوں روپے وصول کرنے اور جعلی تقرری احکامات جاری کرنے کے الزام میں پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے۔
متاثرین کی شکایت کے مطابق کلیان کمار نے مبینہ طور پر بے روزگار نوجوانوں کو مختلف ملازمتیں دلانے کا وعدہ کرتے ہوئے تقریباً 8 سے 10 کروڑ روپے وصول کیے۔ الزام ہے کہ ہر امیدوار سے ملازمت کی نوعیت کے مطابق لاکھوں روپے لیے گئے۔
شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کلیان کمار نے ایجنسی علاقوں میں ٹیچر کی ملازمت، تھرمل پاور پلانٹس میں ملازمت اور آئی ٹی سی پیپر بورڈز میں روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ بعض امیدواروں سے مبینہ طور پر 30 لاکھ روپے تک وصول کیے گئے۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ انہیں ملازمت کے نام پر تقرری کے احکامات بھی دیے گئے، تاہم بعد میں یہ احکامات مبینہ طور پر جعلی ثابت ہوئے۔ اس کے بعد متاثرہ افراد نے پولیس سے رجوع کیا، جس پر پولیس نے شکایت کی بنیاد پر مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
اس معاملے میں رکن اسمبلی ٹیلم وینکٹ راؤ کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ شکایت کنندگان کے مطابق مبینہ دھوکہ دہی کا معاملہ تقریباً سات ماہ قبل سامنے آیا تھا، لیکن اس وقت پی اے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
دوسری جانب پولیس کلیان کمار کی تلاش میں مصروف ہے، جو مبینہ طور پر گزشتہ تین دن سے فرار ہے۔ پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ اس مبینہ فراڈ میں کتنے افراد متاثر ہوئے اور مجموعی طور پر کتنی رقم وصول کی گئی۔
تحقیقاتی حکام مبینہ جعلی تقرری احکامات، مالی لین دین اور دیگر متعلقہ دستاویزات کی بھی جانچ کر رہے ہیں۔ پولیس یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا اس معاملے میں مزید افراد ملوث ہیں یا نہیں۔
پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی مبینہ ملازمت فراڈ کی مکمل تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔