اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے تقریباً نصف علاقے پر کنٹرول قائم کر لیا
جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو انٹرویو دیتے ہوئے لبنانی وزیر اعظم نے کہا کہ حالیہ جنگ سے قبل اسرائیل کے قبضے میں صرف پانچ مقامات تھے، تاہم اب اسرائیلی فوج 68 دیہاتوں پر کنٹرول قائم کیے ہوئے ہے۔
بیروت: نواف سلام نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت جنوبی لبنان کے 68 مقامات پر قابض ہے، جو دریائے لیطانی کے جنوب میں واقع تقریباً نصف علاقے کے برابر ہے۔
جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو انٹرویو دیتے ہوئے لبنانی وزیر اعظم نے کہا کہ حالیہ جنگ سے قبل اسرائیل کے قبضے میں صرف پانچ مقامات تھے، تاہم اب اسرائیلی فوج 68 دیہاتوں پر کنٹرول قائم کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دریائے لیطانی اسرائیلی سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اپنے اقدامات کا جواز شمالی اسرائیل کی سلامتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کارروائیوں کا مقصد حزب اللہ کی دوبارہ موجودگی کو روکنا اور شمالی اسرائیل کے رہائشیوں کو درپیش خطرات ختم کرنا ہے۔
نواف سلام نے پیر کے روز اسرائیلی جنگی جرائم کی دستاویزی کارروائی جاری رکھنے اور انہیں اقوام متحدہ میں پیش کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
لبنانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق انہوں نے وزارتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کا اجلاس بلانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔
بیروت حکومت نے متعدد بار جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان حزب اللہ تنازع کے حوالے سے جنگ بندی پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم باہمی گولہ باری کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق مارچ کے آغاز سے اب تک جاری جھڑپوں میں 2869 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھتے ہوئے حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔