حیدرآباد

جئے پور ٹرین فائرنگ، مہلوک سید سیف الدین کی بیوہ کو نوکری اور فلاٹ دیا جائے گا

وزیر بلدی نظم ونسق و شہری ترقیات کے تارک راما راؤ نے آج اسمبلی میں یہ اعلان کیا کہ حکومت، سید سیف الدین کی بیوہ کو سرکاری نوکری اور ڈبل بیڈ روم کا ایک فلاٹ دے گی۔

حیدرآباد: حکومت تلنگانہ نے جمعہ کے روز جئے پور۔ ممبئی سوپر فاسٹ ایکسپریس میں ریلوے پروٹیکشن فورس کے کانسٹبل کی فائرنگ میں جاں بحق حیدرآبادی کے خاندان کو سرکاری نوکری اور ایک ڈبل بیڈروم فلاٹ دینے کا اعلان کیا۔

متعلقہ خبریں
ماہ صیام کا آغاز، مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اعلان
41 برسوں کے بعد کسی وزیراعظم کا دورہ عادل آباد
تلنگانہ:ایم ایل سی کی نشست کے ضمنی انتخاب کی مہم کااختتام
تلنگانہ میں ٹی ایس کے بجائے ٹی جی استعمال کی ہدایت، احکام جاری
تلنگانہ میں آئندہ 24 گھنٹے میں تیز ہوائیں چلنے کا امکان

 ار پی ایف کانسٹبل چیتن کمار نے چلتی ٹرین میں 31جولائی کو فائرنگ کردی تھی جس میں 4 افراد ہلاک ہوگئے ان میں حیدرآباد کے 48 سالہ سید سیف الدین بھی شامل ہیں۔ سیف الدین، حیدرآباد کے بازار گھاٹ علاقہ کے رہنے والے تھے۔ وہ، موبائل شاپ پر کام کرتے تھے۔

سید سیف الدین، دورہ اجمیر کے بعد اپنے دکان مالک کے ساتھ واپس ہورہے تھے کہ یہ وا قعہ پیش آیا۔ ریاستی وزیر بلدی نظم ونسق و شہری ترقیات کے تارک راما راؤ نے آج اسمبلی میں یہ اعلان کیا کہ حکومت، سید سیف الدین کی بیوہ کو سرکاری نوکری اور ڈبل بیڈ روم کا ایک فلاٹ دے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت، بیوہ کو جی ایچ ایم سی یا ایچ ایم ڈی اے یا کیوکیو ایس یو ڈی اے (قلی قطب شاہ ڈیولپمنٹ اتھاریٹی) میں نوکری دے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کل، اس سلسلہ میں احکام جاری کریں گے۔

کے تارک راما راو جن کے پاس بلدی نظم نسق و شہری ترقیات کا قلمدان بھی ہے، نے یہ بات کہی۔ وزیر کے ٹی آر نے مزید کہا کہ حکومت کی ڈبل بیڈروم امکنہ اسکیم کے تحت خاندان کو ایک فلاٹ فراہم کرے گی۔

تلنگانہ قانون ساز ا سمبلی میں آج مجلس کے قائد اکبر الدین اویسی کی توجہ دہانی پر کے ٹی آر نے سیف الدین کی بیوہ کو نوکری اور ڈبل بیڈروم فلاٹ دینے کا اعلان کیا۔ اکبر اویسی نے حکومت سے سیف کے پسماندگان کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا جس پر کے ٹی آر نے کہا کہ اس کافیصلہ چیف منسٹر کے سی آر کریں گے۔

 کے ٹی آر جو حکمراں جماعت بی آر ایس کے کارگزار صدر بھی ہیں، نے کہا کہ ان کی پارٹی، سیف الدین کی 3بیٹیوں کے نام پر 2,2 لاکھ روپے ڈپازٹ کرائے گی۔ انہوں نے مجلس کو مشورہ دیا کہ وہ اس غمزدہ خاندان کی کچھ مالی مدد کیلئے آگے آئے۔

 سیف الدین کا وطن، ضلع بیدر کے گاؤں حمیلا پور بتایا گیا ہے۔ انہیں تین بیٹیاں ہیں سب سے چھوٹی بیٹی صرف6ماہ کی ہے۔ جبکہ دیگر دو بیٹیاں 6ا ور4سال کی ہیں۔

 ایوان میں اس مسئلہ کو اٹھاتے ہوئے اکبر الدین اویسی نے کہا کہ آر پی ایف کانسٹبل نے باریش3 مسلمانوں کو شہید کردیا۔ مجلس کے قائد نے کہا کہ بڑھتی نفرت اور بنیاد پرستی کی وجہ سے یہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ہندوؤں اور مسلمانوں میں نفرت کو بڑھاوا دیا جارہا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ اقتدار پر فائز افراد نفرت کی آگ پھیلا تے ہوئے ملک کو تباہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں گزشتہ9برسوں سے فرقہ وارانہ طاقتوں کو حاشیہ پر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بی آر ایس حکومت سے اپیل کی کہ وہ متاثرہ خاندان کی فراخدلانے مدد کرتے ہوئے دیگر ریاستوں کیلئے ایک مثال قائم کرے۔

 کے ٹی آر نے اپنی تقریر میں سیف الدین اور دیگر افراد کی ہلاکت کو بدبختانہ قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی واقف ہے کہ اس واقعہ کیلئے کون ذمہ دار ہے۔ ہریانہ اور منی پور تشدد کیلئے کون ذمہ دار ہے، اس سے بھی ہر کوئی واقف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی فائدہ کیلئے مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے اور سماج میں انار کی پیدا کرنے کی کوشش کو گھناونی سازش قرار دیا۔

مذہب کے نام پر سیاست کی جارہی ہے یہ ملک اور آنے والی نسلوں کیلئے اچھا نہیں ہے۔ انہوں نے امیدظاہر کی کہ دانش مندی، حکمت غالب رہے گی اور ملک کو ہوش آئے گا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ تلنگانہ سماج، اس طرح کی قوتوں کو مسترد کردے گا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ امن، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور گنگا جمنی تہذیب برقر ار رہے گی۔ کے  ٹی آر نے اس یقین کا اظہار کیا کہ چیف منسٹر کے سی آر جیسے شریف آدمی کے ہاتھوں میں ہی حیدرآباد  اور تلنگانہ محفوظ رہے گا۔ جو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھتے ہیں۔

 سیف الدین کے خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت، غمزدہ افراد خاندان کی ممکنہ مدد کرے گی۔

a3w
a3w