تلنگانہ

کے کویتا کی مجوزہ کسان ڈسکام کی مخالفت، ریاست گیر عوامی سماعت کا مطالبہ

حیدرآباد کے علاقے ایراگڈہ میں تلنگانہ الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن (ٹی جی ای آر سی) کی جانب سے منعقدہ عوامی سماعت سے خطاب کرتے ہوئے کویتا نے مطالبہ کیا کہ اسی نوعیت کی سماعتیں ریاست کے تمام 33 اضلاع میں بھی منعقد کی جائیں، کیونکہ یہ مسئلہ تلنگانہ کی زراعت کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔

حیدرآباد: تلنگانہ رکشا سمیتی (ٹی آر ایس) کی صدر کے کویتا نے جمعہ کے روز مجوزہ ’رائتھو ڈسکام‘ (کسان ڈسکام) کی سخت مخالفت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت اس اقدام کے ذریعے ’کسانوں کے ساتھ دھوکہ‘ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں
بی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل کویتا کی کانگریس حکومت اور چیف منسٹر ریونت ریڈی پر شدید تنقید
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
ہریش راؤ نے ٹی آر ایس کا کھنڈوا گلے میں ڈال لیا۔ پارٹی کے نام کی تبدیلی کی قیاس آرائیاں
نارائن پیٹ میں ضلع کانگریس کی نئی کمیٹی کا اعلان، پارٹی کو گاؤں کی سطح تک مضبوط بنانے پر زور
علمِ بی بی مبارک کی سواری کے لیے ہاتھی کی منظوری، میر فراست علی باقری کا حکومتِ تلنگانہ اور جی کشن ریڈی سے اظہارِ تشکر


حیدرآباد کے علاقے ایراگڈہ میں تلنگانہ الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن (ٹی جی ای آر سی) کی جانب سے منعقدہ عوامی سماعت سے خطاب کرتے ہوئے کویتا نے مطالبہ کیا کہ اسی نوعیت کی سماعتیں ریاست کے تمام 33 اضلاع میں بھی منعقد کی جائیں، کیونکہ یہ مسئلہ تلنگانہ کی زراعت کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔


انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے کسانوں نے تقریباً 29 لاکھ بورویلوں میں سرمایہ کاری کی ہے اور یاد دلایا کہ سابق بی آر ایس حکومت نے بجلی کے شعبے پر تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے خرچ کیے تھے، جس کے نتیجے میں ریاست میں زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔


کویتا نے الگ کسان ڈسکام کی ضرورت پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت اس منصوبے کے بارے میں عوام کو مناسب معلومات فراہم کرنے یا اسمبلی میں اس پر بحث کرانے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے ڈسکام کی مالی حالت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیاں پہلے ہی تقریباً 69 ہزار کروڑ روپے کے خسارے میں ہیں۔


انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ اس اقدام کے نتیجے میں مستقبل میں زرعی پمپ سیٹوں پر میٹر نصب کیے جا سکتے ہیں اور بجلی کے شعبے کی نجکاری کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔


کویتہ نے تلنگانہ الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن سے اس تجویز کو مسترد کرنے کی اپیل کرتے ہوئے اس حساس معاملے پر کل جماعتی اجلاس طلب کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔