تلنگانہ

سرکاری جونیئر کالجوں میں جعلی اسناد سے ملازمت حاصل کرنے کا الزام، 37 لیکچررز کو وجہ بتاؤ نوٹس

بتایا جاتا ہے کہ ان میں سے بعض لیکچررز نے دیگر ریاستوں کی مختلف یونیورسٹیوں سے پوسٹ گریجویشن اور دیگر کورسز مکمل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے متعلقہ اسناد محکمہ انٹرمیڈیٹ کو پیش کی تھیں اور انہی اسناد کی بنیاد پر سرکاری ملازمت حاصل کی تھی۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے سرکاری جونیئر کالجوں میں مبینہ طور پر جعلی تعلیمی اسناد کی بنیاد پر ملازمت حاصل کرکے خدمات انجام دینے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ محکمہ انٹرمیڈیٹ کے حکام نے ریاست بھر میں ایسے 37 جونیئر لیکچررز کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق سابقہ بی آر ایس حکومت کے دور میں کنٹریکٹ جونیئر لیکچررز کی خدمات کو مستقل کیا گیا تھا۔ اسی عمل کے دوران بعض لیکچررز کی جانب سے پیش کی گئی تعلیمی اسناد کی جانچ میں مبینہ بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ ان میں سے بعض لیکچررز نے دیگر ریاستوں کی مختلف یونیورسٹیوں سے پوسٹ گریجویشن اور دیگر کورسز مکمل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے متعلقہ اسناد محکمہ انٹرمیڈیٹ کو پیش کی تھیں اور انہی اسناد کی بنیاد پر سرکاری ملازمت حاصل کی تھی۔

بعد ازاں اسناد کی جانچ کے دوران بعض اسناد مشتبہ پائی گئیں، جس کے بعد محکمہ انٹرمیڈیٹ نے ریاست بھر میں 37 افراد کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیے ہیں۔

ان میں سابقہ متحدہ نلگنڈہ ضلع سے تعلق رکھنے والے چار لیکچررز بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق نلگنڈہ ضلع مرکز کے ایک سرکاری جونیئر کالج میں فزکس کی خاتون لیکچرر، سوریا پیٹ اور کوداڑ کے سرکاری جونیئر کالجوں میں مختلف مضامین پڑھانے والی دو خاتون لیکچررز اور سوریا پیٹ ضلع کے نیریڈوچرلہ کے ایک سرکاری جونیئر کالج میں بوٹنی کے لیکچرر کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

محکمہ انٹرمیڈیٹ نے متعلقہ لیکچررز کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر اپنی تعلیمی اسناد اور دیگر متعلقہ مکمل ثبوت محکمہ کے سامنے پیش کریں۔

حکام کے مطابق متعلقہ لیکچررز کی جانب سے پیش کیے جانے والے جواب اور دستاویزات کی جانچ کے بعد ہی آئندہ کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اگر اسناد جعلی یا غیر معتبر ثابت ہوتی ہیں تو متعلقہ افراد کے خلاف قواعد کے مطابق سخت کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔

فی الحال محکمہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹس صرف الزامات اور اسناد کی جانچ کے عمل کا حصہ ہیں، اس لیے متعلقہ لیکچررز کے خلاف حتمی طور پر جعل سازی ثابت ہونا ابھی باقی ہے۔