حیدرآباد

کے سی آر کو گجویل سے شکست کا خوف۔ محمد علی شبیر کا راستہ روکنے کاماریڈی حلقہ کاانتخاب

کے سی آر کا اسمبلی حلقہ گجویل اور کاماریڈی سے مقابلہ کرنے کے اعلان سے واضح ہوچکا ہے کہ انہیں گجویل کے رائے دہندوں پر بھروسہ نہیں ہے۔ شکست کے خوف سے کے سی آر نے کاماریڈی کارخ کرنے کافیصلہ کیاہے۔

حیدرآباد: صدر ٹی ایس پی سی سی اے ریونت ریڈی ایم پی نے چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے بی آر ایس امیدواروں کے ناموں کے اجرائی اور خود کے سی آر کے گجویل اور کاماریڈی دو حلقوں سے مقابلہ کے اعلان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ آئندہ انتخابات میں سونیاگاندھی اور صدر اے آئی سی سی ملکارجن کھرگے کی قیادت میں تلنگانہ میں کانگریس پارٹی کی کامیابی یقینی ہے۔

متعلقہ خبریں
چندرائن گٹہ میں عام آدمی پارٹی کے دفتر کا افتتاح
توہین آمیز ریمارکس پر کے سی آر کو نوٹس
باپ اور بیٹے کا جیل جانا یقینی: وینکٹ ریڈی
قائد اپوزیشن کے سی آر کا دورہ اضلاع، خاتون کے بیٹے کی شادی کیلئے5لاکھ روپے کی امداد دینے کا اعلان
بی آر ایس دور حکومت میں 600فون ٹیاپنگ معاملات کا انکشاف

کے سی آر کا اسمبلی حلقہ گجویل اور کاماریڈی سے مقابلہ کرنے کے اعلان سے واضح ہوچکا ہے کہ انہیں گجویل کے رائے دہندوں پر بھروسہ نہیں ہے۔ شکست کے خوف سے کے سی آر نے کاماریڈی کارخ کرنے کافیصلہ کیاہے۔

ریونت ریڈی نے آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہاکہ 115 امیدواروں کی فہرست میں سابق ارکان اسمبلی کی اکثریت ہے او رہمیں پوری امید ہے کہ آئندہ انتخابات میں کانگریس پارٹی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کریں گی۔

کاماریڈی نے کے سی آر کے مقابلہ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کاماریڈی سے ایک اقلیتی قائد محمد علی شبیر گزشتہ 40 سال سے مقابلہ کررہے ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹر چناریڈی‘وجے بھاسکر ریڈی اورڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے دور حکومت میں کئی وزارتی عہدوں پر فائز رہتے ہوئے نمایاں خدمات انجام دیں ہیں۔

مسلمانوں کو4 تحفظات‘ مائناریٹی انجینئرنگ و میڈیکل کالج کے قیام‘ بحیثیت حیدرآباد انچارج وزیر انٹرنیشنل ایرپورٹ اوٹر رنگ روڈ‘ میٹرو ریل پراجکٹ‘ گوداوری اور کرشنا سے حیدرآباد کو پانی کی سربراہی‘ بحیثیت وزیر برقی کسانوں کو 12 گھنٹہ مفت برقی سربراہی‘ برقی پیداوار کے پراجکٹ کا قیام کے لیے محمد علی شبیر کی خدمات کو فراموش نہیں کیاجائے گا۔

آج ایک اقلیتی قائد کو شکست دینے کے لیے کے سی آر کی کوشش سے واضح ہوتاہے کہ وہ مخالف اقلیت ذہن رکھتے ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ سدی پیٹ‘کے سی آر کا قدیم حلقہ ہے۔ بعد ازاں انہوں نے گجویل سے مقابلہ کرتے ہوئے وہاں سے دو مرتبہ منتخب ہوئے اب جبکہ 10 سالہ حکمرانی کے بعد ایسی کیابات ہوئی ہے کہ وہ گجویل کے علاوہ کاماریڈی سے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اس سے قبل بھی این ٹی راماراؤ نے کلوا کرتی اور ہندو پور سے مقابلہ کیاتھا انہیں کلواکرتی سے شکست اٹھانی پڑی تھی۔انہوں نے کے سی آر کانگریس کے 50 سالہ دور حکومت میں کیا کام کئے گئے۔

آج سوال کررہے ہیں۔ انہیں شرم آناچاہے۔ کانگریس کے دور میں تمام آبپاشی پراجکٹ‘سیری سلم‘ ناگرجنا ساگر‘سری رام ساگر‘ نٹیم پاڈو‘ کلوا کرتی پراجکٹ‘ اندرا ساگر‘راجیو ساگر‘ تمام پراجکٹس کانگریس کے دور میں تعمیر کئے گئے۔ انہوں نے کانگریس کے 50 سالہ دو رحکومت میں خرچ کردہ بجٹ پر مباحث کے لیے چالنج کیا۔