کیرالہ محکمہ ادویات نے دواؤں کے بیس بیچوں کی فروخت اور تقسیم پر روک لگا دی
ریاستی ڈرگ کنٹرولر نے کہا کہ یہ روک شناخت شدہ بیچ کے تمام اسٹاک پر نافذ ہوگی۔ انہوں نے ہول سیلر، ریٹیلر، فارمیسی، ہسپتال اور ان مصنوعات کو رکھنے والے دیگر اداروں کو ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر انہیں فروخت سے ہٹا لیں، متعلقہ سپلائر کو واپس کر دیں اور متعلقہ ضلعی ڈرگ کنٹرول حکام کو اس کی اطلاع دیں۔
تھرواننت پورم: کیرالہ کے ڈرگ کنٹرول ڈپارٹمنٹ نے جون میں اپنے لیبارٹری ٹیسٹوں میں ‘معیاری کوالٹی کے نہیں’ (این ایس کیو) پائے جانے کے بعد ریاست بھر میں دواؤں اور کاسمیٹک مصنوعات کے 20 بیچوں کی فروخت اور تقسیم پر روک لگا دی ہے۔
ریاستی ڈرگ کنٹرولر نے کہا کہ یہ روک شناخت شدہ بیچ کے تمام اسٹاک پر نافذ ہوگی۔ انہوں نے ہول سیلر، ریٹیلر، فارمیسی، ہسپتال اور ان مصنوعات کو رکھنے والے دیگر اداروں کو ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر انہیں فروخت سے ہٹا لیں، متعلقہ سپلائر کو واپس کر دیں اور متعلقہ ضلعی ڈرگ کنٹرول حکام کو اس کی اطلاع دیں۔
جن دواؤں کے بیچوں کو معیارات کے برعکس پایا گیا ہے، ان میں بنیادی طور پر ڈائسائکلو مائن، ڈولیپران اور ٹلمیسارٹن وغیرہ شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ متاثرہ بیچ کیرالہ اور کئی دیگر ریاستوں مہاراشٹر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، گجرات، راجستھان، تلنگانہ، کرناٹک اور تمل ناڈو میں واقع فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی طرف سے تیار کیے گئے تھے۔
ریاستی ڈرگ کنٹرولر نے عوام اور صحت کی دیکھ بھال کے اداروں کو مشورہ دیا کہ وہ متاثرہ بیچ کا استعمال نہ کریں۔ ساتھ ہی، تمام ڈیلرز اور ہسپتالوں کو ہدایت دی کہ وہ عوامی صحت کے تحفظ کے لیے انہیں فوری طور پر بازار سے ہٹانا یقینی بنائیں۔