جدید ترین دیسی جنگی جہاز مہیندر گری ہندوستانی بحریہ کے بیڑے میں شامل، بحر ہند میں بڑھے گی ہندوستان کی طاقت
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر سنگھ نے کہا کہ آئی این ایس مہیندر گری تکنیکی طور پر جدید اور جنگ کے لیے تیار بحریہ کی تعمیر کے تئیں ملک کے عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمندری اور اقتصادی سکیورٹی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔
وشاکھاپٹنم: جدید ترین دیسی اسٹیلتھ جنگی جہاز آئی این ایس مہیندر گری ہفتہ کو یہاں ایک تقریب میں بحریہ کے بیڑے میں شامل ہو گیا ہے۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اسے ایک تاریخی موقع اور فرنٹ لائن کے اس جنگی جہاز کو ہندوستان کی جہاز سازی میں بڑھتی ہوئی خود کفیلی کی علامت قرار دیا۔ گزشتہ ڈیڑھ برس میں بحریہ میں شامل ہونے والا یہ پروجیکٹ 17 اے کا چھٹا دیسی جنگی جہاز ہے۔
اس میں 75 فیصد سے زیادہ دیسی مواد کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا ڈیزائن ہندوستانی بحریہ کے وارشپ ڈیزائن بیورو نے تیار کیا ہے اور اس کی مینوفیکچرنگ ممبئی میں واقع مجھگاؤں ڈاک شپ بلڈرز لمیٹڈ نے کی گئی ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر سنگھ نے کہا کہ آئی این ایس مہیندر گری تکنیکی طور پر جدید اور جنگ کے لیے تیار بحریہ کی تعمیر کے تئیں ملک کے عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمندری اور اقتصادی سکیورٹی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔
انہوں نے ہندوستان کے ‘ساگر’ وژن کے تئیں حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ انسانی امداد، بحری قزاقی کے خلاف مہمات اور آپریشن انرجی سکیورٹی میں بحریہ کا رول ہندوستان کے اقتصادی مفادات کے تحفظ میں اس کے تعاون کو ظاہر کرتا ہے۔
بحریہ کے سربراہ ایڈمرل کرشنا سوامی ناتھن نے کہا کہ آئی این ایس مہیندر گری کی شمولیت دیسی جنگی جہازوں کی تیاری کی سمت میں ایک اور اہم کامیابی ہے، جس سے بحریہ کی آپریشنل صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پروجیکٹ 17اے کے تحت آغاز سے لے کر ڈیلیوری تک کا وقت 63 ماہ سے گھٹا کر 31 ماہ اور کل تعمیراتی مدت 95 ماہ سے گھٹا کر 75 ماہ کر دی گئی ہے، جبکہ تمام تکنیکی ٹرائلز صرف ایک سمندری ٹرائل میں مکمل کیے گئے۔
تقریباً 6670 ٹن وزنی اور 28 سمندری میل فی گھنٹہ کی زیادہ سے زیادہ رفتار والا آئی این ایس مہیندر گری فلیٹ ایئر ڈیفنس، اینٹی سرفیس وارفیئر، اینٹی سب میرین وارفیئر، سمندری ناکہ بندی، نگرانی اور انسانی امداد و آفات سے بچاؤ کی مہمات کو انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ جنگی جہاز جدید اسٹیلتھ صلاحیتوں، جدید سینسرز، نیٹ ورک پر مبنی جنگی نظام، جدید ترین ہتھیاروں کے نظام سے لیس ہے اور اس میں سطح سے سطح پر مار کرنے والے برہموس میزائل بھی لگائے جا سکتے ہیں۔
مشرقی گھاٹ کے مہیندر گری پہاڑی سلسلے کے نام پر رکھے گئے اس فریگیٹ کی تیاری میں 200 سے زیادہ ہندوستانی صنعتوں، جن میں کئی ایم ایس ایم ایز شامل ہیں، کا تعاون رہا ہے۔ مشرقی بیڑے میں شامل ہونے کے بعد یہ ہندوستانی بحریہ کی سمندری جنگی صلاحیت اور خطہ بحر ہند میں اس کی آپریشنل پہنچ کو مزید مضبوط کرے گا۔