تلنگانہ

تلنگانہ میں بڑے پیمانے پر پام آئل کی کاشت کی مہم کا آغاز

ریاستی وزراء ڈاکٹر جی وویک وینکٹ سوامی اور پونم پربھاکر نے حسین آباد اسمبلی حلقے کے اکنّا پیٹ منڈل کے جنگاؤں گاؤں میں پام آئل کے پودے لگانے کی خصوصی مہم کا افتتاح کیا۔ دونوں وزراء نے خود بھی پام آئل کے پودے لگائے اور اسے کسانوں کے لیے ایک منافع بخش فصل قرار دیا۔

جنگاؤں: تلنگانہ حکومت نے جمعہ کے روز ریاست میں بڑے پیمانے پر پام آئل کی کاشت کو فروغ دینے کی مہم کا آغاز کیا۔


ریاستی وزراء ڈاکٹر جی وویک وینکٹ سوامی اور پونم پربھاکر نے حسین آباد اسمبلی حلقے کے اکنّا پیٹ منڈل کے جنگاؤں گاؤں میں پام آئل کے پودے لگانے کی خصوصی مہم کا افتتاح کیا۔ دونوں وزراء نے خود بھی پام آئل کے پودے لگائے اور اسے کسانوں کے لیے ایک منافع بخش فصل قرار دیا۔


واضح رہے کہ ہندوستان اپنی گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے دنیا میں پام آئل کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے۔ ملک اپنی خوردنی تیل کی مجموعی ضرورت کا بڑا حصہ بیرونِ ملک سے درآمد کرتا ہے، جس میں پام آئل کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔


اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر وویک نے کہا کہ حکومت نے اس علاقے میں 50 ہزار ایکڑ اراضی کو آئل پام کی کاشت کے تحت لانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔


انہوں نے بتایا کہ ضلع میں اب تک تقریباً 14 ہزار ایکڑ زمین پر آئل پام کی کاشت شروع کی جا چکی ہے۔


انہوں نے کہا کہ حکومت پام آئل کاشت کرنے والے کسانوں کو چار سال تک سبسڈی بھی فراہم کرے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے خوردنی تیل کی درآمد پر انحصار کم کرنے کے لیے ملکی پیداوار میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔


ڈاکٹر وویک نے کہا کہ پام آئل کی فصل کو زیادہ پانی کی ضرورت نہیں ہوتی اور چار سال بعد اس سے خاطر خواہ منافع حاصل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حسین آباد کے قریب پام آئل پروسیسنگ فیکٹری کی موجودگی سے کسانوں کو اپنی پیداوار کی فروخت میں آسانی ہوگی اور انہیں بہتر فائدہ ملے گا۔


انہوں نے عوامی نمائندوں اور سرکاری افسران سے اپیل کی کہ وہ دیہی علاقوں میں کسانوں کو پام آئل کی کاشت کے معاشی فوائد سے آگاہ کریں۔ بڑے پیمانے پر اس کی کاشت کی حوصلہ افزائی کے لیے وزیر نے ترغیبی رقم کا بھی اعلان کیا۔


انہوں نے کہا کہ اگر وزیر پونم پربھاکر ایسے دیہات کو، جہاں پام آئل کی کاشت کے لیے 100 ایکڑ زمین مختص کی جائے، 5 لاکھ روپے دیں گے تو وہ بھی ضلع کے انچارج وزیر کی حیثیت سے اپنی طرف سے مزید 5 لاکھ روپے فراہم کریں گے۔


واضح رہے کہ ہندوستان زیادہ تر پام آئل انڈونیشیا اور ملائیشیا سے درآمد کرتا ہے۔ ان ممالک کی سیاسی و تجارتی پالیسیوں یا موسمی حالات کا براہِ راست اثر ہندوستان میں خوردنی تیل کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔