مشرق وسطیٰ

رفح میں اسرائیلی فوجی آپریشن کے باعث کویتی اسپتال بند

غزہ کے جنوبی علاقے رفح میں اب تک کام کرنے والے کویتی اسپتال کواسرائیلی فوج کی کارروائی کی وجہ سے بند کردیا گیا ہے۔

غزہ: غزہ کے جنوبی علاقے رفح میں اب تک کام کرنے والے کویتی اسپتال کواسرائیلی فوج کی کارروائی کی وجہ سے بند کردیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں
فلسطینی فوٹو جرنلسٹ نے فرانس کا بڑا انعام ’فریڈم پرائز‘ جیت لیا
غزہ میں پہلا روزہ، اسرائیل نے فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روک دیا
نیتن یاہو نے کم وسائل میں بھی لڑنے کا اعلان کیا
رفح پر اسرائیلی حملہ، خون کی ہولی کا باعث بن سکتا ہے: ڈبلیو ایچ او
اسرائیل رہائشیوں کو رفح سے غزہ کے جنوب مغربی ساحل پر المواسی منتقل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے

ایک فلسطینی طبی عہدیدار نے پیر کے روز کویتی اسپتال کو بند کرنے کا اعلان کیا۔

اسپتال کے ڈائریکٹر صہیب الحمس نے پریس بیان میں کہا، "ہم کویت کے خصوصی اسپتال کو بند کرنے اور طبی عملہ کو ارد گرد کے فیلڈ اسپتال میں منتقل کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔”

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ قدم اسرائیلی فوج کی جانب سے رفح میں اپنے فوجی آپریشن میں توسیع اور اسپتال کے اطراف کو بار بار دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی وجہ سے اٹھایا گیا۔ اسرائیلی فوج کے تازہ ترین حملے میں اسپتال کے گیٹ کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں دو طبی عملہ جاں بحق ہوگئے تھے۔

دریں اثناء، وسطی غزہ کی پٹی کے دیر البلح میں واقع الاقصیٰ اسپتال نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے ایندھن کی سپلائی روکنے کی وجہ سے اگلے چار گھنٹوں میں صحت کی خدمات معطل ہو سکتی ہیں۔

اسپتال نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی فوج اتوار سے ایندھن کی سپلائی روک دی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اسپتال 1,200 سے زیادہ بیمار اور زخمی افراد کو طبی دیکھ نگہداشت اور صحت کی خدمات فراہم کرتا ہے، جن میں 600 گردے فیل مریض بھی شامل ہیں جنہیں گردے کے ڈائیلیسس کی ضرورت ہوتی ہے۔

تاہم، اگر ایندھن کی فراہمی نہ کی گئی اور بجلی چلی گئی تو ان کا علاج چند گھنٹوں میں روک دیا جائے گا۔

بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے کہ وہ اگلے 10 دنوں تک طبی عملہ کے کام کو یقینی بنانے کے لیے 50,000 لیٹر ایندھن فراہم کرے۔

a3w
a3w