حیدرآباد

خاتون سے جعلی  راپیڈو ڈرائیور بن کر بات کرنے والا شخص گرفتار، دو دن قید کی سزا

پولیس نے وائرل ویڈیو اور واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مقدمہ درج کیا اور ملزم کو گرفتار کرلیا۔ بعد ازاں عدالت نے معاملے کی سماعت کے بعد دو دن کی سادہ قید اور 250 روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

حیدرآباد: چارمینار کے قریب ایک خاتون سوشل میڈیا انفلوئنسر سے مبینہ طور پر خود کو رائیڈ بکنگ کمپنی کا ڈرائیور ظاہر کرکے سواری کی پیشکش کرنے والے شخص کے خلاف پولیس نے کارروائی کی ہے۔ عدالت نے ملزم کو دو دن کی سادہ قید اور 250 روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

پولیس کے مطابق ملزم کی شناخت 27 سالہ مرزا احمد بیگ کے طور پر ہوئی ہے، جو کشان باغ کا رہنے والا ہے۔ چارمینار پولیس اسٹیشن میں اس کے خلاف 13 اگست کو عوامی مقام پر خلل پیدا کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے کارروائی شروع کی تھی۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب سوشل میڈیا انفلوئنسر سدیشوری سگندھ نے 9 اگست کو ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی۔ ان کے مطابق وہ رات تقریباً 9 بجے چارمینار کے مصروف علاقے میں آٹو رکشہ کے بارے میں معلومات حاصل کر رہی تھیں، اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا اور خود کو رائیڈ بکنگ کمپنی کا ڈرائیور بتایا۔

خاتون کے مطابق اس شخص نے انہیں اپنی گاڑی میں چھوڑنے کی پیشکش کی، تاہم گاڑی پر درست نمبر پلیٹ موجود نہیں تھی۔ جب انہوں نے کہا کہ انہوں نے کوئی رائیڈ بک نہیں کی اور ڈرائیور کی شناخت اور رائیڈنگ ایپ سے متعلق تفصیلات طلب کیں تو مبینہ طور پر وہ شخص اسی وقت اپنے موبائل فون پر ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے لگا۔

واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی۔ اس کے بعد بعض لوگوں نے معاملے کو مذہبی اور سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی، جس پر انفلوئنسر نے وضاحت کی کہ ان کا مقصد کسی مذہب یا برادری کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔ ان کے مطابق اعتراض صرف مبینہ رویے اور مشتبہ انداز میں سواری کی پیشکش پر تھا۔

پولیس نے وائرل ویڈیو اور واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مقدمہ درج کیا اور ملزم کو گرفتار کرلیا۔ بعد ازاں عدالت نے معاملے کی سماعت کے بعد دو دن کی سادہ قید اور 250 روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

یہ واقعہ ایک مرتبہ پھر اس بات کی جانب توجہ دلاتا ہے کہ چارمینار جیسے مصروف اور سیاحتی مقامات پر شہریوں، بالخصوص خواتین کو غیر مجاز یا مشتبہ انداز میں سواری کی پیشکش کرنے والے افراد کے معاملے میں احتیاط ضروری ہے۔