مردم شماری 2027: گھر گھر پوچھے جائیں گے 40 سوالات، ذات کی تفصیلات بھی ہوں گی شامل
مردم شماری کا پہلا مرحلہ گھروں کی فہرست سازی اور رہائشی مکانات کی گنتی پر مشتمل ہے۔ یہ عمل 16 اپریل سے شروع ہوچکا ہے اور 30 ستمبر تک جاری رہے گا۔ اس مرحلے میں ملک بھر کے گھروں، عمارتوں اور رہائشی تعمیرات سے متعلق معلومات جمع کی جارہی ہیں۔
نئی دہلی: ملک میں ہونے والی 2027 کی مردم شماری کی تیاریوں کے درمیان مرکزی وزارتِ داخلہ نے مردم شماری کے لیے 40 سوالات پر مشتمل سوالنامہ جاری کردیا ہے۔ رجسٹرار جنرل آف انڈیا مرتیونجے کمار نارائن کی جانب سے 1948 کے مردم شماری قانون کے تحت اس سلسلے میں نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔
مردم شماری کے دوران گھر گھر جاکر شہریوں سے جغرافیائی، سماجی، تعلیمی اور معاشی صورتحال سے متعلق معلومات حاصل کی جائیں گی۔ سوالنامے میں فرد کا نام، گھر کے سربراہ سے رشتہ، جنس، تاریخ پیدائش، عمر، ازدواجی حیثیت، شریکِ حیات کا نام اور قومیت سمیت مختلف تفصیلات شامل ہوں گی۔
مذہب اور سماجی حیثیت سے متعلق معلومات بھی حاصل کی جائیں گی۔ افراد سے یہ بھی پوچھا جائے گا کہ آیا وہ درج فہرست ذات یا درج فہرست قبائل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ذات، والدین، معذوری اور مادری زبان سے متعلق معلومات بھی ریکارڈ کی جائیں گی۔
تعلیمی صورتحال جاننے کے لیے خواندگی کے ساتھ ڈیجیٹل خواندگی سے متعلق معلومات بھی حاصل کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ کووڈ۔19 ویکسین سے متعلق معلومات بھی سوالنامے میں شامل کی گئی ہیں۔
مردم شماری کے دوران بعض مالی اور شناختی تفصیلات بھی جمع کی جائیں گی۔ افراد سے بینک کھاتوں کی تعداد کے بارے میں معلومات لی جائیں گی، جبکہ آدھار، ووٹر شناختی کارڈ، پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس اور موبائل نمبر سے متعلق تفصیلات بھی حاصل کی جائیں گی۔
2027 کی مردم شماری کی سب سے اہم خصوصیت ذات سے متعلق معلومات کا باقاعدہ اندراج ہے۔ ملک بھر میں مردم شماری کے دوران پہلی مرتبہ ذات سے متعلق اعداد و شمار جمع کیے جائیں گے۔ گزشتہ سال 30 اپریل کو وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں ہونے والی کابینہ کمیٹی کی میٹنگ میں اس حوالے سے فیصلہ کیا گیا تھا۔
مردم شماری کا پہلا مرحلہ گھروں کی فہرست سازی اور رہائشی مکانات کی گنتی پر مشتمل ہے۔ یہ عمل 16 اپریل سے شروع ہوچکا ہے اور 30 ستمبر تک جاری رہے گا۔ اس مرحلے میں ملک بھر کے گھروں، عمارتوں اور رہائشی تعمیرات سے متعلق معلومات جمع کی جارہی ہیں۔
مرکزی حکومت نے مردم شماری کے پورے عمل کو ڈیجیٹل طریقے سے مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بڑے قومی عمل کے لیے تقریباً 11 ہزار کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
ملک کے بیشتر حصوں میں مردم شماری کا اصل مرحلہ آئندہ سال مکمل کیا جائے گا، جبکہ لداخ، جموں و کشمیر، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں یکم ستمبر سے 30 ستمبر تک مردم شماری سے متعلق معلومات جمع کی جائیں گی۔
2027 کی مردم شماری اس اعتبار سے بھی اہم قرار دی جارہی ہے کہ اس میں ذات سے متعلق اعداد و شمار کے ساتھ شہریوں کی سماجی، تعلیمی، معاشی اور ڈیجیٹل صورتحال سے متعلق وسیع معلومات بھی جمع کی جائیں گی۔