شمالی بھارت
ٹرینڈنگ

شادی شدہ مسلم خاتون کا کسی غیر مرد کے ساتھ لیوان ریلیشن میں رہنما زنا اور حرام: ہائیکورٹ

مسلم خاتون نے اپنی اور اپنے ہندو بوائے فرینڈ کی جان کو خطرہ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے والد اور رشتہ داروں سے تحفظ طلب کیا تھا، جسے مسترد کرتے ہوئے جسٹس رینو اگروال کی بنچ نے کہا کہ اس عدالت سے خاتوم کے ’مجرمانہ فعل‘ کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔

لکھنؤ:ایک ہندو نوجوان کے ساتھ رہنے والی شادی شدہ مسلم خاتون کو سیکورٹی دینے سے انکار کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ قانونی طور پر شادی شدہ مسلم عورت شادی شدہ زندگی سے باہر نہیں جا سکتی اور شریعت کے مطابق وہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ لیو ان ریلیشن شپ میں ہے۔ اسلام میں ایسا ناجائز رشتہ بنانا زنا اور حرام سمجھا جائے گا۔

متعلقہ خبریں
وضوخانے کا سروے، انجمن انتظامیہ کو نوٹس
اُدھوٹھاکرے کے قافلہ سے اضافی گاڑی ہٹادی گئی
سرکاری عہدیداروں کو معمول کی کارروائی کے طور پر طلب نہیں کیا جاسکتا: سپریم کورٹ
متھرا شاہی عیدگاہ سروے، الٰہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ محفوظ
گیان واپی مسجد کیس، الٰہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ محفوظ

مسلم خاتون نے اپنی اور اپنے ہندو بوائے فرینڈ کی جان کو خطرہ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے والد اور رشتہ داروں سے تحفظ طلب کیا تھا، جسے مسترد کرتے ہوئے جسٹس رینو اگروال کی بنچ نے کہا کہ اس عدالت سے خاتوم کے ’مجرمانہ فعل‘ کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔

عدالت نے کہاکہ پہلے تو مسلم خاتون ایک غیر مذہب کے نوجوان کے ساتھ شریعت کے خلاف رہ رہی ہے۔ مسلم قانونکے تحت شادی شدہ خاتون ازدواجی زندگی سے باہر نہیں جاسکتی۔ لہٰذا مسلم خاتون کا یہ عمل زنا اور حرام ہے۔ عدالت نے کہاکہ درخواست گزار خاتون اپنے شوہر سے طلاق کے حوالے سے مناسب اتھاریٹی سے کوئی حکم نامہ نہیں لیا ہے۔

اس کیس تحقیق کے مطابق درخواست گزار کی شادی محسن نامی شخص سے ہوئی تھی جس کی 2 سال قبل شادی ہوئی تھی اور وہ اپنی دوسری بیوی کے ساتھ زندگی گزاررہاہے۔ اس کے بعد پہلی بیوی   (درخواست گزار) اپنے میکے چلی گئی لیکن شوہر کے ناروا سلوک کی وجہ سے وہ ایک ہندو لڑکے ساتھ رہنے لگی۔

عدالت نے 23 فروری کو اپنے فیصلہ میں کہا کہ چونکہ مسلم خاتون نے مذہب کی تبدیلی کیلئے متعلقہ اتھاریٹی کو کوئی درخواست نہیں دی ہے اور وہ اپنے شوہر سے طلاق بھی نہیں لی ہے۔ اس لئے وہ کسی بھی قسم کے تحفظ کی حقدار نہیں ہے۔