کرناٹک

بنگلورو میں پتھر کی کان میں چٹان گرنے سے بہار کے سات مزدور ہلاک

یہ افسوسناک واقعہ مداپٹنا میں پیش آیا، جہاں کاویری کمپنی کے تحت ایک اسٹون کرشر یونٹ میں مزدور کان کنی کے کام میں مصروف تھے۔ پولیس کے مطابق تمام ہلاک ہونے والے مزدور یومیہ اجرت پر کام کرتے تھے۔ کان کے اوپری حصے سے ایک بہت بڑی چٹان اچانک ٹوٹ کر نیچے آ گری، جس کے نتیجے میں مزدور اس کے نیچے دب گئے اور موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

بنگلورو: کرناٹک کے حالیہ برسوں کے مہلک ترین کان حادثات میں سے ایک میں جمعرات کی صبح بنگلورو ساؤتھ تعلقہ کی ایک پتھر کی کان میں ایک بڑی چٹان گرنے سے بہار سے تعلق رکھنے والے سات مہاجر مزدور ہلاک جبکہ متعدد دیگر زخمی ہو گئے۔ ابتدائی تحقیقات سے اشارہ ملتا ہے کہ کھدائی کے دوران ممکنہ غفلت اس حادثے کی وجہ بن سکتی ہے۔


یہ افسوسناک واقعہ مداپٹنا میں پیش آیا، جہاں کاویری کمپنی کے تحت ایک اسٹون کرشر یونٹ میں مزدور کان کنی کے کام میں مصروف تھے۔ پولیس کے مطابق تمام ہلاک ہونے والے مزدور یومیہ اجرت پر کام کرتے تھے۔ کان کے اوپری حصے سے ایک بہت بڑی چٹان اچانک ٹوٹ کر نیچے آ گری، جس کے نتیجے میں مزدور اس کے نیچے دب گئے اور موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔


ابتدائی تحقیقات کے مطابق کام کی جگہ سے تقریباً 100 فٹ اوپر ایک نئے کرشر یونٹ کی تنصیب کے لیے ہٹاچی ارتھ موونگ مشین کے ذریعے جگہ ہموار کی جا رہی تھی۔ اسی دوران ایک بڑی چٹان اپنی جگہ سے سرک کر ڈھلوان سے نیچے آ گئی اور نیچے کام کرنے والے مزدوروں پر جا گری۔


حادثے کے وقت کان میں تقریباً 15 سے 20 مزدور موجود تھے۔ تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ مشین چلانے والے آپریٹر نے کھدائی کے مقام کے نیچے کام کرنے والے مزدوروں کو نہیں دیکھا، جس سے حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد اور نگرانی کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔


حادثے میں متعدد دیگر مزدور بھی زخمی ہوئے، جنہیں ایک نجی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ زخمیوں کی درست تعداد کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔


اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں، پولیس اور مقامی حکام موقع پر پہنچ گئے اور تلاش و بچاؤ کی کارروائی شروع کر دی۔ علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا جبکہ ملبہ ہٹانے اور یہ یقینی بنانے کے لیے کہ کوئی مزدور ملبے تلے نہ پھنسا ہو، بھاری مشینری تعینات کی گئی۔


پولیس نے تصدیق کی کہ ہلاک ہونے والے تمام ساتوں مزدور بہار کے رہنے والے تھے۔ حکام نے ان کے اہل خانہ کو اطلاع دینے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔


حادثے کی اصل وجہ معلوم کرنے اور یہ جانچنے کے لیے جامع تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں کہ آیا کان چلانے والی کمپنی نے حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی کی یا معیاری عملی طریقۂ کار کو نظر انداز کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر غفلت ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔


کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے اس حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے۔


انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہاکہ "بنگلورو ساؤتھ تعلقہ کے مداپٹنا میں کرشر کی دیوار گرنے سے سات مزدوروں کی موت انتہائی افسوسناک ہے۔ میں دعا گو ہوں کہ ایشور آنجہانی کی آتما کو ابدی سکون عطا فرمائے، ان کے اہل خانہ کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت دے اور زخمی جلد صحت یاب ہوں۔”


وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی جان و مال کا تحفظ کان مالکان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف حکومت سخت کارروائی کرے گی۔