پریانک کھرگے کا بی جے پی اور آر ایس ایس پر حملہ
گزشتہ تیس برسوں سے لوگوں کو جس بات کا اندیشہ تھا، وہ اب واضح ہو گیا ہے۔
بنگلورو : کرناٹک کے وزیر پریناک کھرگے نے پیر کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر الزام لگایا کہ رام مندر کبھی بھی عقیدت یا مذہبی ایمان کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ اسے سیاسی اقتدار اور دولت حاصل کرنے کے ذریعہ کے طور پر استعمال کیا گیا۔
پریانک کھرگے نے رام مندر میں چڑھاوے میں مبینہ گھوٹالے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس تنازع نے وہ حقیقت بے نقاب کر دی ہے جس کا لوگوں کو گزشتہ کئی دہائیوں سے شبہ تھا۔
انہوں نے الزام لگایاکہ "گزشتہ تیس برسوں سے لوگوں کو جس بات کا اندیشہ تھا، وہ اب واضح ہو گیا ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کے لیے رام مندر کبھی بھی عقیدت یا مذہبی بھکتی کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ یہ صرف اقتدار اور دولت حاصل کرنے کا ایک ذریعہ تھا۔”
کانگریس رہنما نے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ اس نے رام مندر کے مسئلے کو اپنی سیاسی شناخت بنانے کے لیے استعمال کیا، جبکہ آر ایس ایس نے 1990 کی دہائی سے رام جنم بھومی تحریک کے ذریعے اپنی سیاسی اہمیت قائم کی۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ رام مندر میں نذرانوں میں مبینہ خرد برد کے ملزمان کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور آر ایس ایس کی جانب سے تحمل برتنے کی اپیل کا مقصد عوام کو اس معاملے پر سوال اٹھانے سے روکنا ہے۔
پریانک کھرگے نے کہاکہ "ملوث افراد کا دفاع کرنا نہ صرف سیاسی موقع پرستی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ یہ کروڑوں عقیدت مندوں کے مذہبی جذبات کی بھی توہین ہے۔”