کرناٹک

موبائل فون کی ٹارچ کی روشنی میں بس چلانے کا واقعہ، کرناٹک میں تین ملازمین معطل

یہ حیران کن واقعہ 4 جولائی کو کلبرگی-چنچولی روٹ پر پیش آیا۔ اس کا انکشاف اس وقت ہوا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں بس ڈرائیور کے کیبن کے قریب رکھے موبائل فون کی ٹارچ کی روشنی میں چلتی ہوئی دکھائی دی۔ ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد مسافروں کی حفاظت اور گاڑیوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھنے لگے۔

کلبرگی: کرناٹک میں سرکاری ٹرانسپورٹ کی ایک بس کو ہیڈ لائٹس خراب ہونے کے بعد مبینہ طور پر رات کے وقت موبائل فون کی ٹارچ کی روشنی میں چلایا گیا، جس کے بعد شدید عوامی ردعمل سامنے آیا۔ واقعے پر کارروائی کرتے ہوئے کلیانہ کرناٹک روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (کے کے آر ٹی سی) نے ڈرائیور سمیت تین ملازمین کو معطل کر دیا ہے۔


یہ حیران کن واقعہ 4 جولائی کو کلبرگی-چنچولی روٹ پر پیش آیا۔ اس کا انکشاف اس وقت ہوا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں بس ڈرائیور کے کیبن کے قریب رکھے موبائل فون کی ٹارچ کی روشنی میں چلتی ہوئی دکھائی دی۔ ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد مسافروں کی حفاظت اور گاڑیوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھنے لگے۔


کے کے آر ٹی سی حکام کے مطابق چنچولی ڈپو سے منسلک اس بس کی ہیڈ لائٹس سفر کے دوران خراب ہوگئی تھیں۔ تاہم بس کو روکنے یا متبادل گاڑی کا انتظام کرنے کے بجائے ڈرائیور نے مبینہ طور پر محدود روشنی کے باوجود موبائل فون کی ٹارچ کے سہارے سفر جاری رکھا۔


واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ٹرانسپورٹ کارپوریشن نے تحقیقات کا حکم دیا۔ تحقیقات میں گاڑی کی دیکھ بھال میں سنگین کوتاہیوں اور سڑک پر چلانے کے لیے اس کی مناسب جانچ نہ ہونے کا انکشاف ہوا۔


تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد پر ڈرائیور آکاش، تکنیکی عملے کے رکن شیوانند اور تکنیکی سپروائزر بساوراج کو فرائض میں مبینہ غفلت برتنے کے الزام میں معطل کر دیا گیا۔


کلبرگی ڈویژن-1 کے ڈویژنل کنٹرولر ایس جی گنگادھر نے بتایا کہ شیوانند خراب بس کی مناسب مرمت کرنے میں ناکام رہے، بساوراج نے مرمتی کام کی مؤثر نگرانی نہیں کی، جبکہ ڈرائیور آکاش نے یہ جانتے ہوئے بھی بس چلائی کہ اس کی مکمل مرمت نہیں ہوئی تھی۔


کے کے آر ٹی سی نے اس واقعے کو حفاظتی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور واضح کیا کہ کسی بھی صورت میں مسافروں کی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔