جرمنی میں کرناٹک کے نوجوان طالب علم کی ڈوب کر موت، واقعے کی تحقیقات جاری
جرمنی میں کرناٹک سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ طالب علم کی مبینہ طور پر ڈوبنے سے ہونے والی موت کے معاملے میں جرمن پولیس نے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں چار طلبہ، جن میں دو ہندوستانی شہری بھی شامل ہیں، سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ اس افسوسناک واقعے کے حالات کا جائزہ لیا جا سکے۔
منگلورو: جرمنی میں کرناٹک سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ طالب علم کی مبینہ طور پر ڈوبنے سے ہونے والی موت کے معاملے میں جرمن پولیس نے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں چار طلبہ، جن میں دو ہندوستانی شہری بھی شامل ہیں، سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ اس افسوسناک واقعے کے حالات کا جائزہ لیا جا سکے۔
متوفی کی شناخت محمد انیز ابوبکر کے طور پر ہوئی ہے، جو منگلورو کے علاقے ماراکاڈا-کنجتھ بائل کے رہائشی تھے۔ وہ جرمنی کے شہر ہالے میں واقع راہن ایجوکیشن انسٹی ٹیوشن میں بیچلر آف بزنس ایڈمنسٹریشن (بی بی اے) کے تیسرے سمسٹر کے طالب علم تھے۔
اطلاعات کے مطابق، انیز تقریباً ڈیڑھ سال قبل منگلورو سے پری یونیورسٹی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے جرمنی گئے تھے۔ ان کے والد ماراکاڈا ابوبکر صدیق سعودی عرب میں ملازمت کرتے ہیں۔
یہ واقعہ جمعرات کے روز اس وقت پیش آیا جب انیز اپنے ہم جماعتوں اور دوستوں کے ساتھ سیر و تفریح کے لیے گئے ہوئے تھے۔ ٹریکنگ کے بعد یہ گروپ لیپزگ میں واقع ریڈ بل ایرینا کے قریب ایک آبی تفریحی مقام پر پہنچا۔ بتایا جاتا ہے کہ لانڈاؤر برج کے قریب پانی میں نہاتے ہوئے انیز لاپتا ہو گئے، جس کے بعد ہنگامی امدادی ٹیموں نے بڑے پیمانے پر تلاش شروع کی۔ بعد ازاں ریسکیو اہلکاروں نے ان کی لاش پانی سے نکال لی۔
جرمن پولیس مبینہ ڈوبنے کے اس واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کر رہی ہے اور چار طلبہ، جن میں دو ہندوستانی شہری بھی شامل ہیں، سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ فی الحال کسی کی گرفتاری یا فردِ جرم عائد کیے جانے کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم تفتیش کار واقعے سے قبل پیش آنے والے حالات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔
اس سانحے سے انیز کے اہلِ خانہ اور ساحلی کرناٹک کی مقامی برادری شدید صدمے میں ہے۔
اہلِ خانہ کی قانونی معاونت کرنے والے وکیل پی اے حمید پڈوبیدری، برلن میں ہندوستانی سفارت خانے کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ انیز کی میت کو جلد از جلد منگلورو منتقل کرنے کے لیے ضروری قانونی کارروائیاں مکمل کی جا سکیں۔
ہندوستان میت کی واپسی کے لیے درکار تمام دستاویزات کی تکمیل کی جا رہی ہے، جس کے بعد اہلِ خانہ منگلورو میں ان کی آخری رسومات ادا کریں گے۔