شوکت محمد
ڈیلاس ،امریکہ
ایک زمانہ تھا جب کتاب صرف کاغذ کے چند صفحات کا مجموعہ نہیں، انسان کی زندگی بدل دینے والی ایک طاقت سمجھی جاتی تھی۔ کتابوں سے محبت رکھنے والے لوگ انہیں خریدنے، پڑھنے اور محفوظ کرنے کے لیے اپنی ضروریات میں کمی کرلیتے تھے۔ بڑے شہروں میں بڑے بڑے کتب خانے ہوا کرتے تھے اور کسی شہر کی علمی اور تہذیبی حیثیت کا اندازہ اس کے بازاروں، عمارتوں یا سڑکوں سے زیادہ اس کے کتب خانوں سے لگایا جاتا تھا۔ جن شہروں میں کتابوں کی دکانیں، کتب خانے اور کتابوں کے بازار آباد ہوتے، انہیں زندہ اور باشعور شہر سمجھا جاتا تھا۔
لیکن ہر شخص کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ بڑے اور شاندار شوروموں سے کتابیں خرید سکے۔ اچھی کتابیں اس زمانے میں بھی سستی نہیں ہوتی تھیں۔ چنانچہ کم آمدنی والے طلبہ، متوسط طبقے کے نوجوان اور کتابوں کے شوقین لوگ فٹ پاتھوں کا رخ کرتے تھے۔ یہی وہ فٹ پاتھ تھے جہاں بظاہر معمولی سی دکانیں سجتی تھیں، لیکن ان دکانوں پر ایسے ایسے خزانے بکھرے ہوتے تھے جن کی اصل قیمت شاید دکاندار اور خریدار دونوں کو معلوم نہ ہوتی۔ کتابیں مٹی میں پڑی ہوتیں، دھول سے اٹی ہوتیں، کبھی اخبار میں لپٹی ہوتیں اور کبھی بے ترتیب ڈھیروں میں ایک دوسرے کے اوپر رکھی ہوتیں، مگر ان میں سے کوئی ایک کتاب کسی انسان کی پوری زندگی کا رخ بدل دینے کی صلاحیت رکھتی تھی۔
میرے لیے فٹ پاتھوں کے یہ کتابی بازار صرف خرید و فروخت کی جگہیں نہیں تھے، بلکہ میری عملی زندگی کی پہلی درس گاہوں میں سے ایک تھے۔ میں جب دسویں یا بارہویں جماعت کا طالب علم تھا تو حیدرآباد کے ایبٹ آباد علاقے میں فٹ پاتھوں پر کتابوں کے ڈھیر دیکھا کرتا تھا۔ ان ڈھیروں کو دیکھ کر مجھے ایسا محسوس ہوتا جیسے کسی نے علم کا خزانہ سڑک کے کنارے لاکر رکھ دیا ہو اور ہر شخص اپنی استطاعت اور ضرورت کے مطابق اس میں سے کچھ نہ کچھ لے جاسکتا ہو۔ کوئی ادب کی کتاب اٹھا رہا ہے، کوئی تاریخ کی، کوئی فلسفے کی، کوئی فلمی رسالے خرید رہا ہے اور کوئی ایسی کتاب تلاش کررہا ہے جو اسے زندگی میں آگے بڑھنے کا راستہ دکھا سکے۔مجھے ہمیشہ آخری قسم کی کتابوں کی تلاش رہتی تھی۔
اس زمانے میں میرے والد صاحب کالج جاتے ہوئے مجھے پانچ روپے دیا کرتے تھے۔ یہ رقم آج کے لحاظ سے معمولی محسوس ہوسکتی ہے، لیکن اس وقت ایک طالب علم کے لیے پانچ روپے بھی خاصی اہمیت رکھتے تھے۔ میں کوشش کرتا کہ ان پیسوں میں سے زیادہ سے زیادہ رقم بچائی جائے تاکہ واپسی پر فٹ پاتھ کے کتابی بازار سے کوئی ایسی کتاب خرید سکوں جو میرے لیے محض کتاب نہ ہو بلکہ مستقبل کی طرف کھلنے والی کوئی کھڑکی ہو۔ اس دور میں پچاس پیسے، ایک روپے یا دو روپے میں بھی اچھی خاصی کتاب مل جاتی تھی۔ جو کتاب کسی بڑے شوروم میں سیکڑوں روپے کی ہوتی، وہی پرانی ہونے کے سبب فٹ پاتھ پر نہایت معمولی قیمت میں دستیاب ہوجاتی تھی۔ دکاندار سے ذرا سی سودے بازی کی جائے تو قیمت مزید کم ہوجاتی۔
میں جس علاقے میں رہتا تھا وہاں سے میرا کالج خاصا دور تھا۔ اکثر میں بس کے کرائے کے پیسے بچانے کے لیے پیدل کالج جایا کرتا تھا۔ اس فیصلے کے پیچھے صرف کفایت شعاری نہیں تھی، کتابوں کا لالچ بھی تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ اگر بس میں بیٹھ کر چلا گیا تو چند روپے کرائے میں خرچ ہوجائیں گے، لیکن اگر پیدل گیا تو راستے میں کسی کتابی ڈھیر پر رک سکتا ہوں، اپنی پسند کی کتاب تلاش کرسکتا ہوں اور وہی بچائے ہوئے پیسے کسی قیمتی کتاب کے عوض دے سکتا ہوں۔
اتوار کا دن تو میرے لیے اور بھی خاص ہوتا تھا۔ میرے گھر سے کچھ فاصلے پر ایک جگہ تھی جسے ’’کوٹھی‘‘ کہا جاتا تھا۔ وہاں سے بشیر باغ تک فٹ پاتھوں پر کتابوں کا ایک لمبا بازار سا لگتا تھا۔ گھر سے پانچ سات روپے لے کر میں اس بازار کا رخ کرتا۔ بس کے ذریعے بھی وہاں جایا جاسکتا تھا، کرایہ بھی اتنا زیادہ نہیں تھا، مگر مجھے کرایے سے زیادہ کتاب کی فکر ہوتی تھی۔ میں پیدل چلتا، ایک دکان سے دوسری دکان تک جاتا، کتابوں کے ڈھیر الٹتا پلٹتا، سرورق دیکھتا، صفحات کھولتا، کتاب کے اندر جھانکتا اور پھر فیصلہ کرتا کہ کون سی کتاب میرے ساتھ گھر جائے گی۔
کوٹھی سے بشیر باغ تک کا یہ سفر میرے لیے محض ایک سڑک پر چلنا نہیں تھا۔ یہ علم کی تلاش کا سفر تھا۔ درمیان میں ایبٹ شاپ آتا تھا اور راستے کے دونوں طرف مختلف قسم کی کتابیں بکھری ہوتی تھیں۔ کچھ پرانی ادبی کتابیں، کچھ رسائل، کچھ فلمی میگزین، کچھ معلوماتی مجلے اور کچھ ایسی کتابیں جنہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ شاید برسوں سے کسی نے انہیں ہاتھ تک نہیں لگایا۔ لیکن کتاب کے شوقین کے لیے پرانی کتاب کبھی پرانی نہیں ہوتی۔ اس کے صفحات پر کسی دوسرے زمانے کی خوشبو ہوتی ہے، کسی گمنام قاری کے ہاتھوں کے نشان ہوتے ہیں اور کبھی کبھی ایسا خیال مل جاتا ہے جو آج کے زمانے کی ہزاروں کتابوں اور لاکھوں صفحات میں بھی تلاش کرنے سے نہ ملے۔
میں اپنی ضرورت اور پسند کی کتابیں خرید لیتا اور جو پیسے بچ جاتے، ان سے کھانے پینے کی کوئی چیز خرید کر لطف اٹھاتا۔ یوں ایک چھوٹے سے بجٹ میں علم بھی مل جاتا، تفریح بھی اور ایک عجیب سا اطمینان بھی کہ آج کا دن ضائع نہیں ہوا۔
اس زمانے میں ٹیلی ویژن بھی عام نہیں تھا۔ بہت کم گھروں میں ٹی وی ہوا کرتا تھا۔ کمپیوٹر کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ انٹرنیٹ، گوگل، موبائل فون اور مصنوعی ذہانت جیسی سہولتوں کا تصور بھی ہماری زندگی کا حصہ نہیں تھا۔ اگر کسی موضوع کے بارے میں معلومات حاصل کرنی ہوتیں تو کتاب تلاش کرنا پڑتی تھی، کسی جاننے والے سے پوچھنا پڑتا تھا یا کتب خانے کا رخ کرنا پڑتا تھا۔ معلومات تک رسائی آسان نہیں تھی، اس لیے شاید معلومات کی قدر بھی زیادہ تھی۔
آج صورت حال بالکل مختلف ہے۔ دنیا بھر کا علم ایک چھوٹی سی اسکرین پر سمٹ آیا ہے۔ ایک انگلی کے اشارے پر گوگل سامنے آجاتا ہے، چند لمحوں میں دنیا کے کسی بھی موضوع کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں اور مصنوعی ذہانت بھی سوال کا جواب دینے کے لیے حاضر ہے۔ یہ سہولتیں یقیناً انسانی تاریخ کی بڑی نعمت ہیں، مگر سہولت کے ساتھ ایک نقصان بھی آیا ہے: تلاش کا شوق کم ہوگیا ہے۔
ہمارے زمانے میں کتاب تلاش کرنا پڑتی تھی، اس لیے ہم خود بھی تلاش کرنے والے بن گئے تھے۔ آج جواب فوراً مل جاتا ہے، اس لیے شاید سوال کے پیچھے چھپی جستجو کم ہوگئی ہے۔
فٹ پاتھوں پر بکنے والی کتابیں بظاہر معمولی اور بے قیمت معلوم ہوتی تھیں، مگر ان میں زندگی کے بڑے راز چھپے ہوتے تھے۔ بہت سے لوگ صرف فلمی رسالے یا ادبی کتابیں خریدتے تھے، لیکن کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو کتابوں کے انبار میں مستقبل تلاش کرتے تھے۔ انہیں ایسی کتابوں کی تلاش رہتی تھی جو انہیں زندگی میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیں، سوچنے کا نیا انداز سکھائیں اور ناکامی کے باوجود دوبارہ کھڑے ہونے کا جذبہ پیدا کریں۔میں بھی انہی لوگوں میں شامل تھا۔
مجھے خاص طور پر امریکی مصنفین کی وہ کتابیں پسند تھیں جن میں زندگی کو بھرپور انداز میں جینے، مشکلات کا مقابلہ کرنے، اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے اور کامیابی کے لیے مسلسل جدوجہد کرنے کا پیغام ہوتا تھا۔ انہی کتابوں میں ایک دن میری نظر نیپولین ہل کی کتاب ’’You Can Work Your Own Miracles‘‘ پر پڑی۔ اس زمانے میں میری حیثیت کے لحاظ سے دو روپے پچیس پیسے بھی معمولی رقم نہیں تھے، لیکن کتاب کے عنوان اور موضوع نے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا۔ میں نے اسے خرید لیا۔مجھے اس وقت کیا معلوم تھا کہ فٹ پاتھ پر دو روپے پچیس پیسے میں خریدی جانے والی یہ کتاب میرے خیالات کے کئی دروازے کھول دے گی۔
میں نے جب اس کتاب کو پڑھا تو میرے اندر زندگی کو دیکھنے کا انداز بدلنے لگا۔ مجھے محسوس ہوا کہ انسان کی اصل طاقت اس کے حالات میں نہیں، اس کی سوچ میں ہوتی ہے۔ حالات کتنے ہی محدود کیوں نہ ہوں، اگر انسان کے اندر آگے بڑھنے کا جذبہ موجود ہو تو وہ راستہ تلاش کرسکتا ہے۔ وہ کتاب میرے لیے محض ایک کتاب نہیں رہی۔ اس نے میری سوچ کے زاویے بدل دیے۔ آج بھی جب میں اسے پڑھتا ہوں تو میرے اندر ایک نئی توانائی پیدا ہوتی ہے۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ کتاب آج بھی میرے پاس محفوظ ہے۔ وقت گزرتا گیا، زندگی کے حالات بدلتے گئے، میرے راستے بدلتے گئے، مگر وہ پرانی کتاب آج بھی میرے ساتھ ہے، جیسے ماضی کا کوئی ایسا چراغ جس کی روشنی وقت گزرنے کے باوجود مدھم نہیں ہوئی۔میں اکثر سوچتا ہوں کہ آخر کتاب کی قیمت کیا ہے؟ کیا وہ قیمت جو اس کے سرورق پر لکھی ہوتی ہے؟ یا وہ قیمت جو اس کے اندر چھپے ہوئے خیالات رکھتے ہیں؟اگر کسی کتاب کی قیمت دو روپے پچیس پیسے ہو اور وہ کسی انسان کی پوری سوچ بدل دے تو کیا وہ کتاب واقعی دو روپے پچیس پیسے کی ہے؟یقیناً نہیں۔فٹ پاتھوں کے یہ معمولی سے کتابی بازار دراصل معاشرے کی خاموش یونیورسٹیاں تھے۔ یہاں کوئی داخلہ فیس نہیں تھی، کوئی فارم نہیں بھرنا پڑتا تھا، کوئی ڈگری نہیں ملتی تھی، کوئی حاضری رجسٹر نہیں تھا، لیکن جو شخص ان بازاروں میں کتابوں کی تلاش کا ہنر سیکھ لیتا، وہ زندگی کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں سے بھی بہت کچھ حاصل کرسکتا تھا۔
ان فٹ پاتھوں سے کتنے لوگ اٹھے اور کہاں سے کہاں پہنچ گئے، اس کا کوئی حساب نہیں۔ کسی نے وہاں سے تاریخ پڑھی اور تاریخ کا استاد بن گیا، کسی نے سائنس کی کتاب خریدی اور ڈاکٹر یا انجینئر بن گیا، کسی نے قانون پڑھا اور وکیل یا جج بننے کا خواب دیکھا، کسی نے معاشیات کی کتاب اٹھائی اور معیشت کو سمجھنے والا ماہر بن گیا۔ کتنے ہی نوجوانوں نے مقابلہ جاتی امتحانات کی کتابیں انہی بازاروں سے حاصل کیں اور آگے چل کر آئی اے ایس، آئی پی ایس یا دوسرے اعلیٰ سرکاری عہدوں تک پہنچے ہوں گے۔ یہ دعویٰ شاید مبالغہ محسوس ہو، مگر حقیقت یہ ہے کہ کتابیں انسان کے مستقبل میں خاموش سرمایہ کاری کرتی ہیں۔فٹ پاتھ پر کتاب خریدنے والا شخص صرف ایک کتاب نہیں خریدتا، وہ اپنے مستقبل کے لیے ایک امکان خریدتا ہے۔دہلی کا اردو بازار اور دریا گنج ہوں، ممبئی کا بھنڈی بازار اور محمد علی روڈ ہوں یا ملک کے دوسرے شہروں کے پرانے کتابی بازار، ان سب نے نسلوں کی علمی تربیت میں خاموش کردار ادا کیا ہے۔ ان بازاروں میں شاید کتابوں کی جلدیں پرانی ہوتی تھیں، مگر ان کے اندر موجود خیالات کبھی پرانے نہیں ہوتے تھے۔ ایک پرانی کتاب کسی نوجوان کے ہاتھ میں پہنچتی اور اس کے بعد اس نوجوان کی دنیا بدل جاتی۔آج جب میں اپنی زندگی کو پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو مجھے وہ فٹ پاتھ، وہ کتابوں کے ڈھیر، وہ چند سکے، وہ پیدل سفر اور وہ اتوار کے دن یاد آتے ہیں۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ میری کامیابی کی بنیاد کسی بڑے دفتر، کسی مہنگے ادارے یا کسی قیمتی تربیتی پروگرام میں نہیں پڑی تھی، بلکہ انہی فٹ پاتھوں پر پڑی تھی جہاں میں معمولی قیمت میں غیر معمولی کتابیں خریدا کرتا تھا۔
آج اللہ کا شکر ہے کہ میں امریکہ میں کاروبار کررہا ہوں۔ زندگی نے مجھے وہ مواقع دیے جن کا شاید اس وقت میں تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ مگر میری اس زندگی کے سفر میں ان پرانی کتابوں کا حصہ میں کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔ میں نے ان کتابوں سے صرف معلومات نہیں لیں، میں نے ان سے خواب دیکھنا سیکھا۔ میں نے ان سے یہ سیکھا کہ آدمی اپنے موجودہ حالات کا قیدی نہیں ہوتا۔ اگر اس کے اندر آگے بڑھنے کی خواہش ہو، وہ سیکھنے کے لیے تیار ہو اور ناکامی سے خوف زدہ نہ ہو تو معمولی وسائل سے بھی بڑی منزلیں حاصل کرسکتا ہے۔یہی فٹ پاتھوں کے کتابی خزانے کا اصل راز ہے۔
دنیا میں ترقی ہمیشہ بڑے وسائل سے نہیں ہوتی۔ بعض اوقات بڑے خواب چھوٹے وسائل سے جنم لیتے ہیں۔ کسی کے پاس مہنگی لائبریری نہیں ہوتی، مگر فٹ پاتھ سے ایک کتاب مل جاتی ہے۔ کسی کے پاس تعلیم کے لیے بڑے ادارے کی فیس نہیں ہوتی، مگر کسی پرانی کتاب کا ایک جملہ اس کی پوری زندگی بدل دیتا ہے۔ کسی کے پاس رہنمائی کے لیے استاد نہیں ہوتا، مگر ایک مصنف کی کتاب اس کا استاد بن جاتی ہے۔آج کے نوجوانوں کے پاس ہم سے کہیں زیادہ سہولتیں ہیں۔ ان کے ہاتھ میں موبائل ہے، دنیا بھر کی لائبریریاں انٹرنیٹ پر موجود ہیں، معلومات کا ایک سمندر ان کے سامنے ہے اور مصنوعی ذہانت ان کے سوالات کے جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ لیکن اصل سوال سہولتوں کا نہیں، ارادے کا ہے۔ اگر انسان کے اندر آگے بڑھنے کا جذبہ نہ ہو تو دنیا کی سب سے بڑی لائبریری بھی اس کے لیے بے معنی ہے اور اگر اس کے اندر آگے بڑھنے کی آگ موجود ہو تو فٹ پاتھ پر پڑی ہوئی ایک پرانی کتاب بھی اس کے لیے خزانہ بن سکتی ہے۔
میں نے اپنی زندگی میں یہی دیکھا ہے کہ مواقع ہمیشہ بڑے دروازوں سے داخل نہیں ہوتے۔ کبھی وہ ایک پرانی کتاب کی شکل میں آتے ہیں، کبھی کسی اجنبی کی بات میں، کبھی کسی معمولی تجربے میں اور کبھی فٹ پاتھ پر پڑے ہوئے کسی بوسیدہ کتابی ڈھیر میں۔اصل چیز کتاب کی قیمت نہیں، اسے پڑھنے والے کی نظر ہے۔
ایک شخص فٹ پاتھ سے گزرتا ہے اور اسے صرف پرانی کتابوں کا ڈھیر دکھائی دیتا ہے۔ دوسرا شخص اسی ڈھیر میں اپنا مستقبل تلاش کرتا ہے۔ پہلا خالی ہاتھ گزر جاتا ہے، دوسرا چند روپے خرچ کرکے ایک ایسی دولت گھر لے جاتا ہے جس کی قیمت آنے والے برسوں میں لاکھوں، کروڑوں بلکہ کبھی کبھی پوری زندگی سے بھی زیادہ ہوجاتی ہے۔اسی لیے میرے نزدیک فٹ پاتھ صرف چلنے کی جگہ نہیں تھے، وہ میرے لیے علم، خواب اور امید کے راستے تھے۔ وہاں پڑی ہوئی کتابیں شاید دوسروں کے لیے پرانی اور بے قیمت تھیں، لیکن میرے لیے وہ زندگی کے نئے امکانات کا دروازہ تھیں۔ آج امریکہ میں کاروبار کرتے ہوئے جب کبھی اپنی زندگی کے سفر پر نظر ڈالتا ہوں تو ان فٹ پاتھوں کے کتابی ڈھیروں سے لے کر آج تک کا پورا سفر ایک فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔اور میں دل ہی دل میں ان کتابوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔وہ کتابیں جو کبھی پچاس پیسے، ایک روپے یا دو روپے میں میرے ہاتھ آئی تھیں، آج میری زندگی کے سب سے قیمتی سرمائے میں شامل ہیں۔ ان کی قیمت اس وقت چند روپے تھی، مگر ان سے ملنے والی سوچ کی قیمت آج بھی لگائی نہیں جاسکتی۔
شاید اسی لیے کہا جاسکتا ہے کہ دنیا میں خزانے صرف زمین کے نیچے نہیں ہوتے۔ کچھ خزانے فٹ پاتھوں پر بھی بکھرے ہوتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ انہیں اٹھانے کے لیے دولت نہیں، نظر چاہیے،انہیں پڑھنے کے لیے فرصت نہیں، شوق چاہیےاور ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے سب سے بڑھ کر وہ جذبہ چاہیے جو انسان کو اپنی موجودہ حالت سے آگے بڑھنے پر مجبور کرتا ہے۔جس شخص کے اندر یہ جذبہ زندہ ہو، وہ فٹ پاتھ سے بھی ہیرے تلاش کرلیتا ہے۔