مودی اور کھڑگے نے ہری ونش کو تیسری بار راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین منتخب ہونے پر دی مبارکباد
وزیر اعظم سے پہلے اپنی بات رکھتے ہوئے انہوں نے لوک سبھا میں ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ خالی ہونے کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ آئینی روح کے برعکس لوک سبھا میں 2019 سے ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ خالی ہے۔ اچھا ہوتا کہ لوک سبھا میں بھی راجیہ سبھا کی طرح ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب ہو جاتا۔
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی، راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے اور دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے مسٹر ہری ونش کو ایوان میں مسلسل تیسری بار ڈپٹی چیئرمین منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔
مسٹر مودی نے کہا کہ "راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین کے طور پر مسلسل تیسری بار منتخب ہونا، اس ایوان کا آپ پر گہرے اعتماد اور ماضی میں سب کو ساتھ لے کر چلنے کی آپ کی کوششوں پر ایک طرح سے ایوان کی مہر ہے۔”
مسٹر کھڑگے نے امید ظاہر کی کہ ڈپٹی چیئرمین اپوزیشن ارکان کا خصوصی خیال رکھیں گے اور انہیں مناسب اہمیت دیں گے۔ انہوں نے تیسری مدت کے لیے پوری اپوزیشن اور پورے ایوان کی جانب سے انہیں مبارکباد دی۔
وزیر اعظم سے پہلے اپنی بات رکھتے ہوئے انہوں نے لوک سبھا میں ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ خالی ہونے کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ آئینی روح کے برعکس لوک سبھا میں 2019 سے ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ خالی ہے۔ اچھا ہوتا کہ لوک سبھا میں بھی راجیہ سبھا کی طرح ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب ہو جاتا۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ "آپ جمہوریت کی بات کرتے ہیں لیکن سات سال سے اس ایوان میں ڈپٹی اسپیکر نہیں ہے، تو اسے کیا کہیں گے؟ ایک آئینی عہدے کو آپ نے سات سال سے خالی رکھا ہے۔”
مسٹر مودی نے مسٹر ہری ونش کی پچھلی دو مدت کار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں ایوان کی طاقت اور اثر انگیزی میں اضافہ ہوا ہے۔ وہ اپنی نجی زندگی کے تجربات کو بھی ایوان کو فائدہ پہنچانے میں استعمال کرتے ہیں۔ اس سے ایوان کی کارروائی اور ماحول مزید پختہ ہوتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کی مدت کار میں ایوان کی کارروائی کو نئی بلندیاں ملیں گی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ مسٹر ہری ونش کی عوامی زندگی صرف پارلیمانی کاموں تک محدود نہیں رہی ہے۔ صحافت میں اعلیٰ معیار کو انہوں نے ہمیشہ بنیاد مانا۔ ان کی تحریر میں دھار ہے لیکن آواز اور برتاؤ میں نرمی اور شائستگی رہی ہے۔ وہ اپنے مضامین میں اپنا موقف کافی مضبوطی کے ساتھ رکھتے ہیں۔ صحافت میں بھی آخری شخص تک پہنچنے کی ان کی کوشش رہی۔ ان کی سیاسی زندگی میں بھی اس کا عکس نظر آتا ہے۔
ڈپٹی چیئرمین کو نئے ارکان پارلیمنٹ کے لیے مشعل راہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ان سے کافی کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ وقت کی پابندی ان کی خصوصیت رہی ہے۔ جب سے وہ راجیہ سبھا کے رکن بنے ہیں، وہ پورے وقت ایوان میں موجود ہوتے ہیں۔ اپنی ذمہ داری کے تئیں ان کی وابستگی کی وجہ سے یہ ممکن ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایوان کے باہر بھی وہ اپنی ذمہ داریوں کو کس طرح نبھاتے ہیں، یہ توجہ طلب ہے۔ ان کے کام قابلِ ستائش ہونے کے ساتھ ساتھ قابلِ تقلید بھی ہیں۔ انہوں نے اپنی ممبر پارلیمنٹ فنڈ (ایم پی لیڈز) کا استعمال تعلیمی شعبے اور نوجوان نسل کو مرکز میں رکھ کر کیا ہے اور یونیورسٹیوں میں تحقیقی اور مطالعہ کے مراکز بنوائے ہیں۔
مسٹر مودی نے کہا کہ مسٹر ہری ونش کی زندگی آج بھی اپنے گاؤں سے جڑی ہوئی ہے۔ وہ مسلسل وہاں اپنا تعاون دیتے رہتے ہیں۔ نئے ایوان کی تعمیر میں بھی انہوں نے کافی تعاون کیا ہے – چاہے وہ گیٹوں کا نام رکھنا ہو یا آرٹ گیلری کو شکل دینا۔
تمل ناڈو سے ڈی ایم کے کے تروچی شیوا نے امید ظاہر کی کہ وہ اقتدار اور اپوزیشن کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داری نبھائیں گے۔
آندھرا پردیش سے وائی ایس آر سی پی کے سبھاش چندر بوس پلی نے مسٹر ہری ونش کے ایوان چلانے کے طریقے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے شائستگی کے ساتھ سختی برتتے ہیں۔
اڈیشہ سے بیجو جنتا دل کے مانو رنجن منگراج نے کہا کہ وہ غیر جانبدارانہ طریقے سے ایوان چلاتے ہیں اور امید ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں بھی ایسا ہی کرتے رہیں گے۔
تمل ناڈو سے اے آئی اے ڈی ایم کے کے مسٹر ایم تمبی دورئی نے کہا کہ نشست کی کامیابی قوانین اور طریقہ کار کے نفاذ سے کہیں زیادہ ارکان کے جذبات کو سمجھنے میں ہے۔
بہار سے جے ڈی یو کے سنجے جھا نے مسٹر ہری ونش کے تقرر پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں گزشتہ 20 برسوں میں جو بھی مثبت کام ہوئے ہیں، ان میں اپنی صحافت اور ایک رکن پارلیمنٹ کے طور پر انہوں نے بھرپور تعاون دیا ہے۔