دہلی

ایئرپورٹس کی سائبر سکیورٹی ہوگی مزید مضبوط

فورس نے ابھرتے ہوئے سائبر خطرات کو پہچاننے، ان سے نمٹنے اور ان کا فوری حل نکالنے کے لیے خصوصاً تیار کردہ جوانوں کی ایک ٹیم بنانے کا بیڑا اٹھایا ہے

نئی دہلی :  سنٹرل انڈسٹریل سیکیورٹی فورس (سی آئی ایس ایف) نے شہری ہوا بازی کے شعبے میں اہم بنیادی ڈھانچے اور سائبر سکیورٹی کو مزید مضبوط اور ناقابلِ تسخیر بنانے کی سمت میں انتہائی اہم قدم اٹھاتے ہوئے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) روپڑ کے ساتھ ایک اہم مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں۔

اس معاہدے کے تحت سی آئی ایس ایف کے جوانوں کو سائبر سکیورٹی میں ماہر بنانے کے لیے چھ ہفتے کی خصوصی رہائشی تربیت دی جائے گی۔ سی آئی ایس ایف نے ہفتے کے روز بتایا کہ دونوں فریقین کے درمیان اس مفاہمت نامے پر جمعہ کے روز دستخط کیے گئے۔

ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کی 2024 میں ہوئی کانفرنس میں مرکزی مسلح پولیس فورسز اور ریاستی پولیس تنظیموں میں ایک مخصوص ‘سائبر کمانڈو’ کیڈر تیار کرنے پر زور دیا گیا تھا।

سی آئی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل پروین رنجن کی قیادت میں، فورس نے ابھرتے ہوئے سائبر خطرات کو پہچاننے، ان سے نمٹنے اور ان کا فوری حل نکالنے کے لیے خصوصاً تیار کردہ جوانوں کی ایک ٹیم بنانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ ہوائی اڈے ملک کے سب سے حساس اور اہم بنیادی ڈھانچوں میں سے ایک ہیں۔ ایسے میں یہاں ہونے والا کوئی بھی سائبر خلل بڑے پیمانے پر سکیورٹی، آپریشنز اور معیشت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اسی خطرے کو بھانپتے ہوئے یہ خصوصی کیڈر تیار کیا جا رہا ہے۔

آئی آئی ٹی روپڑ اسکیل فاؤنڈیشن اور سی آئی ایس ایف کی اس ادارہ جاتی شراکت داری کے تحت 6 ہفتے کا یہ پروگرام مکمل طور پر مفت منعقد کیا جائے گا۔ اس تربیت میں جوانوں کو کتابی علم کے ساتھ ساتھ عملی سطح پر آنے والے چیلنجوں سے بھی روشناس کرایا جائے گا۔

اس خصوصی کورس میں جوانوں کو سائبر سکیورٹی کے بنیادی اصول، اہم معلومات کا بنیادی ڈھانچہ، ڈیجیٹل فارنسک اور واقعات کا پتہ لگانا، ڈیزاسٹر ریکوری اور کاروباری تسلسل، نئے و ابھرتے سائبر خطرات اور ملٹی سیکٹر کرائسس سیمیولیشن جیسے موضوعات کی تربیت دی جائے گی۔

اس معاہدے پر آئی آئی ٹی روپڑ کے ڈائریکٹر پروفیسر راجیو آہوجا اور سی آئی ایس ایف (نئی دہلی) کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (سیکٹر-I) سنتھل ابوڈائی کرشنا راج ایس نے دستخط کیے۔ یہ شراکت داری سی آئی ایس ایف کو ٹیکنالوجی کے محاذ پر مزید مضبوط اور مستقبل کے لیے تیار بنائے گی۔ اس خصوصی ‘سائبر سکیورٹی کیڈر’ کے تیار ہونے سے نہ صرف ہوابازی کی سکیورٹی یقینی ہوگی، بلکہ یہ جامع قومی سائبر سکیورٹی کے ڈھانچے کو بھی ایک نئی طاقت دے گا۔