منی لانڈرنگ کیس: ریاستی وزیر سرینواس ریڈی اور لڑکے کی عمارتوں کی تلاشی
ہرشا ریڈی کی ملکیت ایک کنسٹرکشن کمپنی اور ان کے آبائی ضلع کھمم میں دیگر مقامات پر بھی دھاوے کئے گئے۔16ٹیمیں، مکانات اور دفاتر اور دیگر عمارتوں پر بیک وقت دھاوے کررہی ہیں۔

حیدرآباد: انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ (ای ڈی)، منی لانڈرنگ سے متعلق ایک کیس میں تلنگانہ کے وزیر مال پی سرینواس ریڈی اور ان کے لڑکے پی ہرشا ریڈی کی عمارتوں پر دھاوے کررہی ہے۔حیدرآباد کے جوبلی ہلز میں وزیر کی رہائش گاہ، شہر کے مضافاتی علاقہ میں حمایت ساگر پر ان کے فام ہاوز اور ان کے لڑکے، دختر اور دیگر ارکان خاندان کی عمارتوں پر دھاوے کئے جارہے ہیں۔
ہرشا ریڈی کی ملکیت ایک کنسٹرکشن کمپنی اور ان کے آبائی ضلع کھمم میں دیگر مقامات پر بھی دھاوے کئے گئے۔16ٹیمیں، مکانات اور دفاتر اور دیگر عمارتوں پر بیک وقت دھاوے کررہی ہیں۔
یہ دھاوے منی لانڈرنگ سے متعلق ایک کیس میں کئے جارہے ہیں۔ہرشا ریڈی کی جانب سے 7کروڑ روپے مالیتی7قیمتی گھڑیوں کی خریداری پر ڈائرکٹوریٹ آف ریونیو انٹلیجنس (ڈی آر آئی) کی شکایت پر یہ دھاوے کئے جارہے ہیں۔
ہرشا ریڈی کنسٹرکشن کے کاروبار میں ہیں۔ہانگ کانگ سے براہ سنگا پور سے مبینہ طور پر اسمگل شدہ2قیمتی گھڑیوں کی خریداری جن کی مالیت 1.73کروڑ روپے ہے، پر محکمہ کسٹمس نے انہیں ایک نوٹس بھی جاری کی تھی۔ کسٹمس ڈپارٹمنٹ کی تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ یہ گھڑیاں ہانگ کانگ سے براہ سنگا پور اسمگل کی گئی تھیں۔
کسٹمس ڈپارٹمنٹ نے ایک مبینہ ڈیلر محمد مبین کے قبضہ سے یہ گھڑیاں ضبط کی تھیں جو5فروری کو سنگا پور سے چینائی آیا تھا۔ مبین کے قبضہ سے پاٹیک فلپ 5740 اور بریگویٹ 2759 گھڑیاں ضبط کی گئی تھی جن کی مالیت لگ بھگ 1.73 کروڑ روپے ہے۔ہرشا ریڈی نے مبینہ طور پر ایک درمیانی شخص آلوکم نوین کمار کے ذریعہ یہ گھڑیاں خریدی تھیں جس سے کسٹمس ڈپارٹمنٹ نے مارچ میں پوچھ تاچھ کی تھی۔
اُس نے مبینہ طور پر حوالہ اور کرپٹو کرنسی کے ذریعہ رقومات کی ادائیگی کی راہ ہموار کی تھی۔ محکمہ انکم ٹیکس نے گزشتہ سال نومبر اسمبلی انتخابات سے قبل سرینواس ریڈی کی رہائش گاہ کی تلاشی لی تھی۔
سابق رکن پارلیمنٹ نے جولائی میں کانگریس میں شمولیت اختیار کی تھی کیونکہ چند ماہ قبل اُس وقت حکمراں بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس)نے مخالف پارٹی سرگرمیوں کی پاداش میں سرینواس ریڈی کو معطل کردیا تھا۔پیشہ سے تاجر سرینواس ریڈی ضلع کھمم کے پالیرو حلقہ سے اسمبلی کیلئے منتخب ہوئے تھے اور ریونت ریڈی کی زیر قیادت کابینہ میں وزیر بنے۔