ممبئی میں احتجاجی طلبہ کو منشیات کے جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کی دھمکی، پولیس عہدیدار معطل (ویڈیو)
ممبئی کے شیواجی پارک، چیمبور اور آزاد میدان سمیت مختلف مقامات پر طلبہ اور عوام نے دہلی میں ہونے والے احتجاج کے حق میں مظاہرے کیے۔ اسی دوران پولیس نے چند مظاہرین کو حراست میں لے کر ایک پولیس وین میں منتقل کیا۔
ممبئی: نیٹ امتحان میں مبینہ لیک اور بے ضابطگیوں کے خلاف دہلی میں جاری طلبہ احتجاج کی حمایت اب ملک بھر میں پھیل چکی ہے۔ ممبئی سمیت کئی شہروں میں ہزاروں طلبہ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ لیکن اسی دوران ممبئی پولیس کے ایک اہلکار کی دھمکی آمیز ویڈیو نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔
ممبئی کے شیواجی پارک، چیمبور اور آزاد میدان سمیت مختلف مقامات پر طلبہ اور عوام نے دہلی میں ہونے والے احتجاج کے حق میں مظاہرے کیے۔ اسی دوران پولیس نے چند مظاہرین کو حراست میں لے کر ایک پولیس وین میں منتقل کیا۔
الزام ہے کہ پولیس وین میں موجود ایک اہلکار نے حراست میں لیے گئے طلبہ کو انتہائی سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا: "اگر تم دوبارہ احتجاج میں نظر آئے تو تمہاری زندگیاں برباد کر دوں گا۔ تمہارے بیگ میں 50 گرام منشیات رکھ کر ڈرگس کیس میں پھنسا دوں گا، پھر تمہیں ضمانت بھی نہیں ملے گی اور پوری زندگی جیل میں گزرے گی۔”
ویڈیو میں پولیس اہلکار یہ بھی کہتے ہوئے سنائی دیتا ہے کہ ان احتجاجوں کی وجہ سے اس کی اپنی زندگی بھی مشکلات کا شکار ہوگئی ہے۔
یہ پوری گفتگو کسی شخص نے خفیہ طور پر ریکارڈ کر لی، جس کے بعد کانگریس اور کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ ویڈیو تیزی سے وائرل ہونے کے بعد پولیس کے رویے پر شدید تنقید شروع ہوگئی۔
بڑھتے ہوئے تنازع کے بعد ممبئی پولیس کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس (DCP) نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا۔ ساتھ ہی ویڈیو میں پولیس یونیفارم میں نظر آنے والے اہلکار کو، ابتدائی کارروائی کے طور پر، اس کی موجودہ تعیناتی سے ہٹا دیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حقائق کی بنیاد پر مزید محکمانہ اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا پُرامن احتجاج کرنے والے طلبہ کو ڈرانا دھمکانا قانون نافذ کرنے والے اداروں کا اختیار ہے، یا پھر ایسے الزامات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے؟ یہی سوال اب عوامی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔