حیدرآباد

ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان

نئی دہلی میں منعقدہ مجلسِ عاملہ کے اجلاس میں ملک بھر میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے ہجومی تشدد، مساجد و مدارس کے انہدام، بلڈوزر کارروائیوں، یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کی کوششوں، وندے ماترم کو لازمی قرار دینے کی پالیسیوں اور کمال مولی مسجد (بھوج شالہ) مقدمے سمیت مختلف اہم مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلسِ عاملہ نے ملک و ملت کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسلمانوں کے بنیادی حقوق، مذہبی آزادیوں اور مذہبی اداروں کے تحفظ کے لیے ملک گیر تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں
گورنمنٹ ڈگری کالج فلک نما میں انا–اکّا مینٹورشپ انٹرن شپ تربیتی پروگرام کا آغاز
محرم الحرام 2026 کے انتظامات پر بی جے پی وفد کی کمشنر پولیس حیدرآباد سے ملاقات
جماعتِ اسلامی ہند گریٹر حیدرآباد ویمنز ونگ کے زیرِ اہتمام صحافیوں اور این جی اوز کا اجلاس
نعتیہ کلام دلوں کو محبتِ رسول ﷺ سے منور کرتا ہے: سعداللہ خان سبیل
جی بی ایچ ایس مغلپورہ نمبر 2 میں درسی کتب اور کاپیوں کی تقسیم، طلبہ کو محنت، وقت کی پابندی اور تعلیمی جستجو کی تلقین

نئی دہلی میں منعقدہ مجلسِ عاملہ کے اجلاس میں ملک بھر میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے ہجومی تشدد، مساجد و مدارس کے انہدام، بلڈوزر کارروائیوں، یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کی کوششوں، وندے ماترم کو لازمی قرار دینے کی پالیسیوں اور کمال مولی مسجد (بھوج شالہ) مقدمے سمیت مختلف اہم مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں بورڈ نے الزام عائد کیا کہ بعض ریاستوں میں مسلمانوں کی جان و مال، عزت و آبرو، مذہبی اداروں اور آئینی حقوق کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بورڈ کے مطابق ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور نفرت کی فضا کو منظم انداز میں فروغ دیا جا رہا ہے جبکہ نفرت انگیز تقاریر اور اشتعال انگیزی کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں ہو رہی۔

مجلسِ عاملہ نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ مسلمانوں کے خلاف پیش آنے والے واقعات پر سیکولر سیاسی جماعتوں کی جانب سے مؤثر آواز بلند نہیں کی جا رہی۔ بورڈ نے کہا کہ مسلمانوں کے مسائل صرف ایک برادری کا مسئلہ نہیں بلکہ ملک کے جمہوری ڈھانچے، سماجی ہم آہنگی اور ترقیاتی عمل سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک میں مسلمانوں کی صورتحال، بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں اور فرقہ وارانہ کشیدگی سے متعلق ایک جامع دستاویز تیار کرکے شائع کی جائے گی تاکہ انصاف پسند اور جمہوری اقدار کے حامی طبقات کو اس صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے۔

کمال مولی مسجد مقدمے کے حوالے سے بورڈ نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ تاریخی شواہد اور عبادت گاہوں سے متعلق قانون 1991 کی روح کے خلاف ہے۔ بورڈ نے سپریم کورٹ میں دائر اپیل کا خیرمقدم کرتے ہوئے مسجد کمیٹی کو ہر ممکن قانونی تعاون فراہم کرنے کا اعلان کیا۔

مجلسِ عاملہ نے وندے ماترم کو لازمی قرار دینے کی کوششوں کو آئین ہند کی دفعہ 25 کے منافی قرار دیا۔ بورڈ نے خبردار کیا کہ اگر مرکزی یا ریاستی حکومتیں اس حوالے سے کوئی لازمی قانون نافذ کرتی ہیں تو اس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔ بورڈ نے کلکتہ ہائی کورٹ کے اس عبوری حکم کا بھی خیرمقدم کیا جس میں مدارس میں وندے ماترم گانے سے متعلق حکومتی ہدایت پر روک لگا دی گئی ہے۔

اجلاس میں یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کی کوششوں پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ بورڈ کا کہنا تھا کہ یو سی سی مذہبی آزادی اور ملک کے کثرت پسند سماجی ڈھانچے کے خلاف ہے۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ مختلف ریاستوں میں اس نوعیت کے قوانین کے خلاف قانونی چارہ جوئی جاری رکھی جائے گی۔

مجلسِ عاملہ نے مسلمانوں کے آئینی و مذہبی حقوق کے تحفظ، نفرت انگیز مہمات کے خلاف آواز بلند کرنے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ملک گیر عوامی تحریک چلانے کا اعلان کیا۔ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی مجلسِ عمل تشکیل دی جا رہی ہے جو مختلف تنظیموں، انصاف پسند حلقوں اور جمہوریت پسند عناصر کے ساتھ رابطہ قائم کرے گی۔

اجلاس کی صدارت آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کی جبکہ جنرل سکریٹری مولانا محمد فضل الرحیم مجددی نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ اجلاس میں بورڈ کے متعدد سینئر ارکان، مذہبی رہنما، ماہرین قانون اور مختلف ملی و سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔