مشرق وسطیٰ

نیتن یاہو نے ٹرمپ کو جنگ میں دھکیلا، امریکیوں پر بوجھ بڑھ گیا، کملا ہیرس کی کڑی تنقید

سابق امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت تنقید کی ہے۔ سابق امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی خاطر امریکہ کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل دیا ہے جو عوامی مفاد میں نہیں ہے۔

واشنگٹن: سابق امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت تنقید کی ہے۔ سابق امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی خاطر امریکہ کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل دیا ہے جو عوامی مفاد میں نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں
غزہ کو 3 حصوں میں تقسیم کرکے شمالی حصہ اسرائیل میں شامل کرنے کا منصوبہ
تاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
کملاہیرس اور ٹرمپ میں کانٹے کی ٹکر متوقع
ٹرمپ انتظامیہ نے گرین کارڈ حاصل کرنے کا عمل مزید سخت کردیا
وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ڈنر میں فائرنگ کرنے والا ملزم کول ایلن عدالت میں پیش


کملا ہیرس نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ نیتن یاہو نے ٹرمپ کو اس جنگ میں شامل کیا اور ٹرمپ ایسی جنگ میں کود پڑے جو امریکی عوام نہیں چاہتے تھے۔


انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے امریکی فوجیوں کی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ سابق نائب صدر نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی صورتحال کے معاشی اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت امریکی عوام اس جنگ کی قیمت بھگت رہے ہیں۔


کملا کا کہنا تھا کہ جنگ کی وجہ سے ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث ایک عام امریکی کو اپنی گاڑی کا ٹینک بھروانے کے لیے کم از کم 15 ڈالر اضافی ادا کرنے پڑ رہے ہیں، جبکہ ڈیزل کی قیمتوں میں بھی 50 فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی ان پالیسیوں کی وجہ سے امریکی عوام مہنگا ایندھن خریدنے پر مجبور ہیں اور ملکی معیشت پر جنگ کے گہرے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔