تلنگانہ میں نئی پنشن کا عمل شروع، بزرگ شہریوں سمیت 4 زمروں کو فی الحال درخواست کا موقع نہیں
ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کے لیے بھی صورتحال تشویش کا باعث ہے۔ سابق حکومت کے دور میں 37 ہزار سے زیادہ افراد کو اس زمرے میں پنشن مل رہی تھی، جبکہ اب یہ تعداد بڑھ کر 46 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ اس کے باوجود فی الحال نئے نام شامل کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
حیدرآباد: تلنگانہ میں کانگریس حکومت کی جانب سے نئے مستحقین کو چیوتھا سماجی تحفظ پنشن اسکیم کے تحت پنشن فراہم کرنے کی تیاریوں کے درمیان ایک اہم معاملہ سامنے آیا ہے۔ موجودہ مرحلے میں بزرگ شہریوں، ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد، بیڑی مزدوروں اور بیڑی کے ٹھیکیداروں کو نئی پنشن کے لیے درخواست دینے کا موقع نہیں دیا جا رہا ہے۔
ریاست میں اس وقت تقریباً 41 لاکھ افراد چیوتھا پنشن اسکیم کے تحت مالی امداد حاصل کر رہے ہیں۔ اس اسکیم میں بزرگ شہری، بیوائیں، معذور افراد، تاڑی نکالنے والے مزدور، بُنکر، ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد، فائلریا کے مریض، ڈائلیسس کے مریض، بیڑی مزدور، تنہا خواتین اور بیڑی کے ٹھیکیدار سمیت 11 زمروں کو شامل کیا گیا ہے۔
موجودہ مرحلے میں حکومت کو تقریباً تین لاکھ نئی درخواستیں موصول ہونے کی توقع ہے، تاہم نئی پنشن کے لیے فی الحال صرف سات زمروں سے درخواستیں قبول کی جا رہی ہیں۔ باقی چار زمروں کو اس عمل سے باہر رکھا گیا ہے۔
بزرگ شہریوں کے معاملے میں سابق بی آر ایس حکومت نے 2014 میں پنشن کے لیے عمر کی حد 65 سال سے کم کرکے 57 سال کردی تھی۔ اس کے ساتھ ہی ماہانہ پنشن کی رقم ایک ہزار روپے سے بڑھا کر 2022 میں دو ہزار 16 روپے کردی گئی تھی۔
بی آر ایس حکومت کے دور میں تقریباً 16 لاکھ 44 ہزار بزرگ شہری پنشن حاصل کر رہے تھے، جبکہ اب یہ تعداد کم ہوکر تقریباً 14 لاکھ 31 ہزار رہ گئی ہے۔
حکام کے مطابق بزرگ شہریوں کی جانب سے درخواستیں وصول کی جا رہی ہیں، لیکن ان کی تفصیلات فی الحال آن لائن درج نہیں کی جا رہی ہیں۔ دیہی غربت کے خاتمے کی سوسائٹی کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ بزرگ شہریوں کی پنشن کے بارے میں حکومت کی جانب سے ابھی واضح ہدایات موصول نہیں ہوئی ہیں۔ امکان ہے کہ اگلے مرحلے میں ان درخواستوں کی جانچ کرکے پنشن منظور کی جائے گی۔
دوسری جانب تقریباً چار لاکھ 20 ہزار بیڑی مزدور اور تین ہزار 749 بیڑی کے ٹھیکیدار پہلے ہی پنشن حاصل کر رہے ہیں، لیکن اس مرحلے میں نئے مستحقین کو درخواست دینے کا موقع نہیں دیا جا رہا۔ حکام کے مطابق بیڑی مزدوری کا پیشہ سابق نظام آباد، عادل آباد اور کریم نگر اضلاع کے بعض علاقوں میں زیادہ ہے، جبکہ اس پیشے سے وابستہ افراد کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔
ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کے لیے بھی صورتحال تشویش کا باعث ہے۔ سابق حکومت کے دور میں 37 ہزار سے زیادہ افراد کو اس زمرے میں پنشن مل رہی تھی، جبکہ اب یہ تعداد بڑھ کر 46 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ اس کے باوجود فی الحال نئے نام شامل کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
کانگریس حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد آسرہ پنشن کا نام تبدیل کرکے چیوتھا پنشن رکھا تھا۔ 2023 کے اسمبلی انتخابات کے دوران کانگریس نے تمام زمروں کے پنشن یافتگان کی ماہانہ پنشن دو ہزار 16 روپے سے بڑھا کر چار ہزار روپے کرنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم تقریباً تین سال گزرنے کے باوجود یہ وعدہ ابھی تک مکمل طور پر نافذ نہیں ہوسکا ہے۔
حکومت نے اب کمزور اور مستحق طبقات کو ترجیحی بنیادوں پر نئی پنشن منظور کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عوامی حکمرانی پروگرام، 99 روزہ ترقی منصوبہ گرام سبھا اور پرجا وانی کے دوران موصول ہونے والی درخواستوں کو چیوتھا پورٹل کے ذریعے جانچا جائے گا۔
جن افراد نے پہلے ہی ضروری دستاویزات کے ساتھ درخواست جمع کرادی ہے، انہیں دوبارہ درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ درخواستوں کی آن لائن تفصیلات درج کرنے کے بعد فیلڈ سطح پر تصدیق کی جائے گی اور ضرورت کے مطابق متعلقہ محکموں سے بھی تصدیق حاصل کی جائے گی۔
اس کے بعد درخواستوں کی جانچ ضلع کلکٹر کی سطح پر ہوگی۔ منظوری کے بعد آن لائن پنشن منظوری کے احکامات جاری کیے جائیں گے اور ضابطے کے مطابق مستحقین کو پنشن فراہم کی جائے گی۔
اب سب کی نظریں حکومت کے اگلے مرحلے پر ہیں کہ بزرگ شہریوں، ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد، بیڑی مزدوروں اور بیڑی کے ٹھیکیداروں کو نئی پنشن کے لیے درخواست دینے کا موقع کب دیا جاتا ہے۔