حیدرآباد

اطاعتِ رسولﷺ ہی نصرتِ الٰہی کی کلید‘میدانِ اُحد سے ملنے والا ابدی سبق، غزوہئ احد اور اس کے متعلقات پر انسٹھ (59)آیات کا نزول، مولانا ڈاکٹر سید احمد غوری نقشبندی کا خطاب

یہ معرکہ سنہ 3ہجری، ماہِ شوال المکرم میں پیش آیا، جو ہجرت کے تقریباً 31ماہ اور غزوہئ بدر کے 13ماہ بعد واقع ہوا۔ اس کے وقوع کے دن کے بارے میں مختلف اقوال ملتے ہیں، جن میں 7، 11اور 15شوال نمایاں ہیں۔

حیدرآباد:مدینہ منورہ کے تاریخی پہاڑ”جبل اُحد“کے دامن میں پیش آنے والا عظیم معرکہ”غزوہئ احد“ صرف ایک جنگی واقعہ نہیں بلکہ رہتی دنیا تک کے انسانوں کے لئے ہدایت، نصیحت اور عملی تربیت کا ایک جامع درس ہے۔

یہ ایسا فیصلہ کن مرحلہ تھاجس نے نہ صرف اس وقت کے مسلمانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا؛ بلکہ قیامت تک آنے والی امت کے لئے بصیرت اور اصلاح کے بے شمار دروازے کھول دئے۔

یہ معرکہ سنہ 3ہجری، ماہِ شوال المکرم میں پیش آیا، جو ہجرت کے تقریباً 31ماہ اور غزوہئ بدر کے 13ماہ بعد واقع ہوا۔ اس کے وقوع کے دن کے بارے میں مختلف اقوال ملتے ہیں، جن میں 7، 11اور 15شوال نمایاں ہیں۔

تاریخی روایات کے مطابق اس معرکہ میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً سات سو تھی، جب کہ مشرکین تین ہزار کے لشکر کے ساتھ میدان میں اترے تھے۔ عددی اعتبار سے دشمن کو واضح برتری حاصل تھی اور ان کی تعداد مسلمانوں سے تقریباً پانچ گنازیادہ تھی۔

اس معرکہ میں ستر(70) جلیل القدر صحابہ کرامؓ نے جامِ شہادت نوش کیا، جن میں حضور اکرم ﷺکے محبوب چچا سید الشہداء حضرت حمزہ بن عبدالمطلبؓ بھی شامل تھے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا ڈاکٹر مفتی حافظ سید احمد غوری نقشبندی قادری نائب شیخ المعقولات جامعہ نظامیہ نے مرکز انوار السنہ تاڑبن حیدرآبادمیں بروز منگل،بعد مغرب منعقدہ ایک علمی نشست کے دوران کیا۔

سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے مولانا نے کہا کہ معروف مصری سیرت نگارپروفیسر احمد غلوش نے اپنیکتاب”السیرۃ النبویۃ والدعوۃ فی العہد المدنی“میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ غزوہ اُحد اور اس کے متعلقات کو سورہئ آل عمران کی آیت نمبر121سے 179تک بیان کیا گیا ہے۔

اس طرح کُل(59)آیات میں اس معرکہ اور اس کے متعلقات کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ معرکہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ تربیت الہی کا ایک مستقل نصاب ہے۔ڈاکٹر نقشبندی نے کہا کہ میدانِ اُحد میں ایک اہم سبق یہ بھی دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت کے لئے کسی کا محتاج نہیں، وہ جسے چاہتا ہے ہدایت دے کر اپنے دین کا مددگار بنا دیتا ہے۔

 اس کی واضح مثال حضرت خالد بن ولیدؓ کی ہے، جو اسی معرکہ میں مشرکین کی جانب سے مسلمانوں کے مقابل صف آرا تھے؛ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو اسلام کی طرف پھیر دیا اورجو کل تک کفر کے حمایتی تھے وہ آج اسلام کی سربلندی کے عظیم سپہ سالار بنے۔

اسی طرح حضرت وحشیؓ کا واقعہ بھی عبرت اور ہدایت کاذریعہ ہے، جنہوں نے اس معرکہ میں حضرت حمزہ بن عبد المطلبؓ کو شہید کیا، مگر بعد میں اسلام قبول کر کے اپنی زندگی کو یکسر بدل ڈالا۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ کے دورِخلافت میں انہوں نے جھوٹے مدعی نبوت ”مسیلمہ کذاب“ کو اسی نیزے سے واصل جہنم کیا‘ جس سے حضرت امیر حمزہؓ کو شہید کیا تھا۔

وہ کہا کرتے:ماضی میں‘میں نے اسلام کی ایک معزز ہستی کو شہیدکیا تھا تو اب اسلام کے سب سے بڑے دشمن کو بھی میں نے ہی ختم کیا ہے۔ دوران خطاب ڈاکٹر نقشبندی نے کہا کہ غزوہئ اُحد میں حضرت حنظلہؓ کی اطاعت و قربانی کابھی اعلیٰ نمونہ ملتا ہے۔

 ان کی شادی ابھی ہوئی ہی تھی،شب زفاف گزری ہی تھی کہ کوچ کرنے کا اعلان ہو گیا۔ غسل میں تاخیر کے اندیشے کے سبب وہ فوراً لبیک کہتے ہوئے میدان میں پہنچ گئے اور شہید ہو گئے، شہادت کے بعد جب آپ کا جسم مبارک تلاش کیا گیا تو وہ نظر نہ آیا، جس پر حضور اکرمﷺنے ارشاد فرمایا کہ فرشتوں نے حنظلہؓکو غسل دیا ہے۔جب آپ کے جنازہ کو دیکھا گیا تو واقعی پانی کے قطرے نظر آرہے تھے۔

 اسی وجہ سے آپ کو ”غسیل الملائکہ“کہا جاتا ہے۔ یہ عظیم اعزاز صرف اس بنا پر عطا ہوا کہ انہوں نے حکم رسولﷺ کی تعمیل میں لمحہ بھر کی تاخیر بھی گوارا نہ کی۔مولانا نے کہا کہ اطاعت ومحبت میں صرف مرد حضرات ہی نہیں؛ صحابیات ؓنے بھی عجب داستانیں رقم کی ہیں۔

ایک انصاری خاتون کا واقعہ بھی معرکہ احد میں روحانی کیفیت کو اجاگر کرتا ہے، جن کے شوہر، والد اور بھائی تینوں اس جنگ میں شہید ہو گئے تھے۔

 جب انہیں باری باری ان سب کی شہادت کی خبر دی گئی تو وہ ہر بار یہی دریافت کرتی رہیں کہ رسول اللہﷺکیسے ہیں؟ جب انہیں بتایا گیا کہ آپﷺخیریت سے ہیں تو انہوں نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر رسول اللہﷺسلامت ہیں تو ہر مصیبت آسان ہے۔ڈاکٹر نقشبندی نے کہا کہ غزوہئ اُحد میں کئی معجزات بھی رونما ہوئے، جن میں ایک واقعہ حضرت عبد اللہ بن جحش ؓکا ہے۔

جب وہ میدانِ جنگ میں مصروف تھے تو ان کی تلوار ٹوٹ گئی۔ اسلحہ کی کمی کے باعث نئی تلوار دستیاب نہ تھی، جس پر انہوں نے حضور اکرمﷺسے عرض کیا، آپ ﷺنے انہیں کھجور کی ایک شاخ عطا فرمائی، جسے انہوں نے بلا تامل لے کر لہرایا تو وہ ایک مضبوط تلوار میں تبدیل ہو گئی۔

یہ تلوار بعد میں ان کی نسل میں منتقل ہوتی رہی؛ یہاں تک کہ خلیفہ معتصم بن ہارون رشید کے دور میں  ”بغاء ترکی“نامی امیرسلطنت نے اسے دو سو دینار میں خرید لیا۔اس تلوار کو”سیف العرجون“کہا جاتا ہے۔

 اس معرکہ کا سب سے اہم اور فیصلہ کن پہلو وہ واقعہ ہے جو جبلِ رماۃ (تیر اندازوں کی پہاڑی) پر پیش آیا۔ حضور اکرمﷺنے پچاس تیر اندازوں کو اس مقام پر متعین فرمایا اور سختی سے تاکید کی کہ جب تک میں حکم نہ دوں اپنی جگہ نہ چھوڑنا۔

لیکن جب دشمن کو بظاہر پسپا ہوتے دیکھا گیا تو اکثر تیر اندازوں نے یہ سمجھ کر کہ جنگ ختم ہو چکی ہے، اپنی جگہ چھوڑ دی۔ چند افراد کے سوا باقی سب نیچے اتر آئے۔ اسی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حضرت خالد بن ولید نے- جو اس وقت مشرکین کی جانب سے تھے-

خالی درہ دیکھ کر حملہ کر دیا، اچانک غیر متوقع حملہ کی وجہ سے مسلمان مضطرب ہوگئے۔یہ بہت کٹھن لمحات تھے، مسلمان چکی کے دو پاٹ کے درمیان‘دانے کی طرح پس گئے۔یہی وہ لمحہ تھا جب معمولی سی خلاف ورزی نے پورے معرکہ کا نقشہ بدل دیا۔بعد میں پھر اللہ تعالی کا کرم ہوااور حالات قابو میں آگئے۔

اس واقعہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ نصرتِ الٰہی اور تائیدِ ربانی صرف اور صرف اطاعتِ رسولﷺ میں پوشیدہ ہے۔

 حکمِ نبوی کی تعمیل میں ذرا سی کوتاہی بھی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ کامیابی، فوز و فلاح اور غلبہ کا دارومدار مکمل اتباعِ نبوی پر ہے۔میدانِ اُحد کا یہ سبق رہتی دنیا تک کے لئے ایک روشن پیغام ہے کہ اگر امتِ مسلمہ کامیابی، عزت اور سربلندی چاہتی ہے تو اسے ہر حال میں اطاعتِ رسولﷺ کو اپنا شعار بنانا ہوگا؛ کیونکہ یہی وہ کلیدی اصول ہے جس میں دنیا و آخرت کی کامیابی مضمر ہے۔