جرائم و حادثات

اورنگ آباد میں ایک ماہ کا بچہ کئی مرتبہ فروخت ، حیدرآباد سے بازیاب والدین سمیت 7 گرفتار

اس کے والدین نے 1 لاکھ 20 ہزار روپے میں فروخت کیا، جس کے بعد مختلف افراد کے ذریعے بچے کا کئی مرتبہ سودا کیا گیا اور ہر اگلے سودے میں رقم بڑھتی گئی

ممبئی   :  اورنگ آباد کے مکندواڑی علاقے سے سامنے آنے والے ایک سنگین معاملے میں ایک ماہ کے بچے کو مبینہ طور پر پہلے اس کے والدین نے 1 لاکھ 20 ہزار روپے میں فروخت کیا، جس کے بعد مختلف افراد کے ذریعے بچے کا کئی مرتبہ سودا کیا گیا اور ہر اگلے سودے میں رقم بڑھتی گئی۔ پولیس نے بالآخر بچے کا سراغ حیدرآباد میں لگاکر اسے بازیاب کرلیا ہے۔ اس معاملے میں بچے کے والدین سمیت مجموعی طور پر 7 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس اب اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا یہ معاملہ مہاراشٹر اور تلنگانہ میں سرگرم کسی بین ریاستی شیر خوار بچوں کی اسمگلنگ کے نیٹ ورک سے وابستہ ہے۔

پولیس کے مطابق معاملہ اورنگ آباد کے مکندواڑی علاقے میں سامنے آیا۔ ابتدائی تحقیقات میں الزام ہے کہ بچے کے والدین نے اپنے ایک ماہ کے بچے کو سیما ریشوال نامی ایک درمیانی خاتون کے حوالے کرکے اس کے بدلے 1 لاکھ 20 ہزار روپے حاصل کیے۔ تفتیش کاروں کے مطابق بچے کے والدین نے مبینہ طور پر اس رقم سے 2 مہنگے موبائل فون اور سونے کی ایک چین خریدی۔ پولیس تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر ان موبائل فونز اور سونے کی چین کو ضبط کرنے کی کارروائی کر رہی ہے۔

تحقیقات آگے بڑھنے پر پولیس کو معلوم ہوا کہ والدین سے بچے کو حاصل کرنے کے بعد اس کا مزید کئی مرتبہ سودا کیا گیا اور ہر مرحلے پر اس کی قیمت بڑھتی گئی۔ پولیس کے مطابق سیما ریشوال نے بچے کو پڈے گاؤں کی رہنے والی سنگیتا آوہاڑ کو 2 لاکھ 70 ہزار روپے میں فروخت کیا۔ اس کے بعد سنگیتا آوہاڑ بچے کو ناندیڑ لے گئی، جہاں اسے 3 لاکھ 50 ہزار روپے میں سریش گنتوکا کے حوالے کیا گیا۔ پولیس نے سریش گنتوکا کو ایک فرضی ڈاکٹر قرار دیا ہے۔

تفتیش کاروں کے مطابق بچے کی خرید و فروخت کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ سریش گنتوکا نے بعد میں بچے کو اپنے ایک رشتہ دار اوما کھٹکم کے حوالے کردیا، جو حیدرآباد کی رہنے والی ہے۔ اس سودے میں بھی بچے کے لیے 3 لاکھ 50 ہزار روپے کی رقم بتائی گئی ہے۔ پولیس نے تحقیقات کے دوران مختلف کڑیوں کو جوڑتے ہوئے بالآخر بچے کا سراغ حیدرآباد میں لگایا اور وہاں سے اسے بحفاظت بازیاب کرلیا۔

پولیس نے اس معاملے میں بچے کے والدین سمیت ان مختلف سودوں میں مبینہ طور پر شامل مجموعی طور پر 7 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار ملزمان سے پوچھ گچھ کرکے پولیس اس پورے سلسلے کو دوبارہ ترتیب دینے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ یہ واضح کیا جاسکے کہ بچے کو ایک شخص سے دوسرے شخص تک پہنچانے میں کس ملزم کا کیا کردار تھا اور ہر مرحلے پر کس طرح رقم کا لین دین ہوا۔

پولیس اس پہلو کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ گرفتار افراد کا اس سے قبل بچوں کی غیر قانونی خرید و فروخت یا منتقلی کے کسی دوسرے معاملے سے تعلق تو نہیں رہا ہے۔ تفتیش کار یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا بچے کو مہاراشٹر سے تلنگانہ تک مختلف افراد کے ذریعے منتقل کرنے کا یہ واقعہ کسی بڑے بین ریاستی شیر خوار بچوں کی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کا حصہ تھا اور کیا اس پورے معاملے میں گرفتار 7 افراد کے علاوہ مزید لوگ بھی شامل ہیں۔ اس سلسلے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔