دہلی

انڈیا اتحاد کی میٹنگ شروع، الیکشن کمیشن اور دیگر امور پر ہوگی بات چیت

ملک کی تمام اپوزیشن جماعتیں چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

نئی دہلی :   اپوزیشن جماعتوں کے انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کی اہم میٹنگ بدھ کو یہاں شروع ہو گئی۔ میٹنگ میں الیکشن کمیشن، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے کردار اور ووٹر فہرست کی خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) سمیت مختلف امور پر بات چیت ہونے کا امکان ہے۔

اتحاد کی میٹنگ میں کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر محترمہ سونیا گاندھی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، کانگریس کے جنرل سکریٹری کے۔ سی۔ وینوگوپال، پون کھیڑا اور ناصر حسین، مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ محترمہ ممتا بنرجی، نیشنل کانفرنس کے صدر عمر عبداللہ، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی محترمہ محبوبہ مفتی، سینئر سیاست داں اور سابق مرکزی وزیر کپِل سبل، سماجوادی پارٹی کے ہریندر سنگھ ملک اور محب اللہ ندوی، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شراد پوار) کی محترمہ سپریا سولے اور جتیندر آوہاڈ، سی پی آئی (ایم) کے ایم پی جان برٹاس، راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر تیجسوی یادو اور آر ایس پی کے این۔ کے۔ پریم چندرن سمیت اتحاد کے کئی اہم رہنما شامل ہو رہے ہیں۔

سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نشست میں شامل نہیں ہو رہے ہیں۔ وہ لکھنؤ میں پارٹی کے کام میں مصروف بتائے گئے ہیں۔ عام آدمی پارٹی اور ڈی ایم کے کی جانب سے نشست میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔

میٹنگ میں شرکت کے لیے پہنچے کے۔ سی۔ وینوگوپال نے کہا کہ میٹنگ میں الیکشن کمیشن، ایس آئی آر اور دیگر امور پر بات چیت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کی منگل کو ہوئی میٹنگ میں ہوئی بات چیت کی بنیاد پر یہاں ایک تجویز رکھی جائے گی۔ آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے میٹنگ سے پہلے کہا کہ انتخابی عمل میں جس طرح کی گڑبڑ ہوئی ہے اور جس طرح وہ سامنے آئی ہے، اس پر میٹنگ میں بات چیت ہوگی۔

 انہوں نے کہا کہ دو الیکشن کمشنروں نے بھی اس سلسلے میں سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے انتخابی عمل، ووٹنگ ریکارڈ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے متعلق قوانین میں تبدیلیوں سے متعلق بھی سوال اٹھائے ہیں۔ این۔ کے۔ پریم چندرن نے کہا کہ میٹنگ کا اہم ایجنڈا الیکشن کمیشن سے متعلق معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تمام اپوزیشن جماعتیں چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ایم کے پہلے ہی چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کی تجویز کی حمایت کر چکی ہے۔