شمالی بھارت

اپوزیشن اتحاد کو   2024 کے انتخابات میں بھی شرمناک شکست ہوگی : مختار عباس نقوی

سابق مرکزی وزیرنے کہا کہ اپوزیشن اتحاد کی جماعتوں کے درمیان جاری ہنگامہ آرائی اور رسہ کشی اس بات کا ثبوت ہے کہ اتحاد کے اندر کتنے شدید اختلافات ہیں۔

رام پور: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی ) کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے آج یہاں کہا کہ "سوشلسٹ ٹیپو” اور "جاگیردار سلطان” کے درمیان "خوابوں کی سلطنت کی جنگ” 2024 کے انتخابات میں بھی شکست کا سامنا کرے گی۔

متعلقہ خبریں
الیکشن نہ لڑنے والا قائد راجستھان کا نیا چیف منسٹر ہوگا: بی جے پی ذرائع
بنگلہ دیش نے ٹسٹ کرکٹ کی تیسری سب سے بڑی کامیابی درج کی
حیدرآباد کو بھاگیہ نگر سے موسوم کرنے کاوعدہ، کشن ریڈی کی زہر افشانی
وجئے شانتی، انتخابی مہم ومنصوبہ بندی کمیٹی، کی چیف کوآرڈینٹر مقرر
تقریر میں ”خود مختار“ لفظ کے استعمال پر اعتراض

اپوزیشن اتحاد میں جاری کشمکش پر آج رام پور کے کویلا گاوں میں ’’ وکست بھارت سنکلپ یاترا‘‘ کے موقع پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر نقوی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ’’کام کی گنتی اور کرشمے کی گنتی ‘‘ نے اپوزیشن اتحاد کا "جگاڑ” عوامی مینڈیٹ سے بہت دور کردیا ہے اور ’’سلطانی سلطنت کے خوابوں کے سوداگر” کا صفایا ہو چکا ہے۔

سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ "زمین کے بغیر زمینداری، عوامی حمایت کے بغیر جاگیرداری” کی سلطنت کا جاگیردارانہ جنون ختم ہو رہا ہے۔ نقوی نے کہا کہ مودی جی کی اہل قیادت میں پہلی غیر کانگریسی حکومت نے دو میعاد پوری کی ہے اور کانگریس کے رحم و کرم کے بغیر گڈ گورننس اور جامع ترقی کے وعدے کے ساتھ تیسری میعاد کی طرف بڑھ گئی ہے،جس سے کانگریس کی خاندان قیادت حیران و پریشان اور بوکھلاہٹ میں مبتلا ہے۔

سابق مرکزی وزیرنے کہا کہ اپوزیشن اتحاد کی جماعتوں کے درمیان جاری ہنگامہ آرائی اور رسہ کشی اس بات کا ثبوت ہے کہ اتحاد کے اندر کتنے شدید اختلافات ہیں۔

نقوی نے کہا کہ گرینڈ اولڈ پارٹی ’’فریب کا بازار‘‘ ہے، تاریخ گواہ ہے کہ ’’ ایسا کوئی سگا نہیں جسے اس نے ٹھگا نہیں ‘‘۔ جو لوگ دھوکہ کے سامان سے بھری محبت کی نام نہاد دکان پر پہنچ گئے ہیں، وہ کانگریس کی چالاکیوں میں پھنس گئے ہیں اور وہ خود کو ٹھگامحسوس کر رہے ہیں ۔

سابق مرکز وزیر نے کہا کہ مسٹر نریندر مودی کی گڈ گورننس، اجتماعی ترقی اور سماجی تحفظ کی ضمانت ملک کے لوگوں کے امتحان میں کھری اتری ہے اور مودی حکومت نے محروم اور کمزور طبقات کو ‘اجتماعی طور پر بااختیار بنانے کے جذبے کے ساتھ فرقہ وارانہ چاپلوسی کے عمل کو شکست دی ہے۔

 آج لوگوں کی آنکھوں میں خوشی ہے، سماج میں خوشحالی ہے اور عوام کی زندگی میں خوشی کا ماحول ہے ۔ مودی جی نے اگر کسی سماج کی ترقی میں کمی نہیں کی ہے تو ووٹوں میں بخل نہیں ہونا چاہیے۔

اس لئے اقلیتوں کو بھی ووٹ کے ٹھیکیداروں کے چنگل سے نکل کر دہائیوں کے سیاسی استحصال سے آزاد ہوکر ترقی میں حصہ داری کے پلیٹ فارم پر آنا چاہئے اور خود کو بااختیار بنانے کے لئے ساتھ کھڑے ہونا چاہئے۔

نقوی نے کہا کہ سال 2024 کے الیکشن میں مودی کا کرنٹ اپوزیشن کو 440 کا جھٹکا دے گا۔ سابق مرکزی وزیر نے مختلف فلاحی اسکیموں آیوشمان، پردھان منتری آواس یوجنا، دین دیال انتیودیا یوجنا، پردھان منتری اجولا یوجنا، کسان سمان ندھی، پوشن ابھیان، ہر گھر جل جیون مشن، جن دھن یوجنا، اٹل پنشن یوجنا وغیرہ کے استفادہ کنندگان کو مبارکباد پیش کی ۔

مسٹر نقوی نے اس موقع پر کویلا گاوں میں مستحقین کے سرٹیفکیٹ اور کارڈ تقسیم کیے اور کھیتوں میں جا کر ڈرون کے ذریعے کھاد اور کیڑے مار ادویات کا اسپرے کیا۔انہوں نے ’’ وکست بھارت سنکلپ یاترا‘‘ رتھ کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا اور وہاں موجود لوگوں کو خود انحصار اور ترقی یافتہ ہندوستان بنانے کا حلف دلایا۔

اس موقع پر ضلع پنچایت صدر مسٹر خیالی رام لودھی، بی جے پی کے ضلع صدر ہنس راج پپو، سابق ممبر اسمبلی جوالا پرساد گنگوار اور دیگر اہم لوگ موجود تھے۔