یمن میں لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد 2 لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہوئے: اقوام متحدہ
آئی او ایم نے کہا کہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی تنظیم اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ سرکاری افواج کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے باعث بے گھر ہونے کا بحران تشویشناک سطح تک پہنچ گیا ہے۔
عدن: یمن میں ستمبر کے آغاز میں لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد 2 لاکھ سے زیادہ لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کی بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت (آئی او ایم) کی جانب سے بدھ کو جاری کیے گئے اعداد و شمار میں یہ اطلاع دی گئی۔
آئی او ایم نے کہا کہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی تنظیم اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ سرکاری افواج کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے باعث بے گھر ہونے کا بحران تشویشناک سطح تک پہنچ گیا ہے۔
ستمبر کے وسط میں بے گھر ہونے والے لوگوں کی تعداد تقریباً 76000 تھی، جو اب بڑھ کر 2 لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے۔ ان میں سے تقریباً تمام لوگ حالیہ تنازع شروع ہونے کے بعد اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
آئی او ایم کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ نے کہاکہ "لوگ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ رہے ہیں اور انہیں جانے کے لیے کوئی محفوظ جگہ نہیں مل رہی ہے۔” انہوں نے بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے خوراک اور پناہ گاہوں کے لیے مزید رقم فراہم کرنے کی اپیل کی۔
یہ تنازع 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان ہویی سب سے سنگین لڑائی ہے۔ تنازع دوبارہ بڑھنے سے یمن کے کچھ حصوں پر کنٹرول کی صورت حال تبدیل ہونے اور بحیرہ احمر میں بحری راستوں پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
حوثی پہلے ہی دارالحکومت صنعاء سمیت شمالی یمن کے بڑے حصے پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ گزشتہ ماہ انہوں نے سعودی عرب کی حمایت یافتہ ان فورسز سے ملک کے پورے بحیرہ احمر کے ساحل پر قبضہ کرلیا، جو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے وفادار ہیں۔ یہ حکومت جنوبی بندرگاہی شہر عدن میں قائم ہے۔
آئی او ایم کے مطابق 10 صوبوں میں لوگوں کے بے گھر ہونے کی اطلاع ملی ہے اور تعز سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ اس کے علاوہ 3700 سے زیادہ لوگ سمندری راستے سے یمن چھوڑ کر جبوتی پہنچ چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے عالمی غذائی پروگرام نے جمعہ کو کہا تھا کہ یمن کے کچھ حصوں میں ہر 4 میں سے 3 خاندان خوراک کی کمی سے دوچار ہیں۔ تنظیم نے اسے دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کا "انتہائی تباہ کن” اثر قرار دیا تھا۔