اویسی کا بی سی آئی پر الزام، اختلافِ رائے پر طلبہ کو ڈرانے کی کوشش
اویسی نے سوال اٹھایا کہ بی سی آئی یا اس کے چیئرمین کو اس طرح کی کارروائی کرنے کا اختیار کہاں سے حاصل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو اپنی یونیورسٹی میں کسی عوامی شخصیت کی شرکت کی مخالفت کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہے۔
حیدرآباد : ایم آئی ایم کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے جمعہ کو حیدرآباد میں واقع نالسار یونیورسٹی آف لا کے طلبہ سے متعلق تنازعے سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) کی سخت مذمت کی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں اویسی نے کہا کہ بی سی آئی کے چیئرمین نے ابتدا میں ریاستی بار کونسلوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ نالسار کے 2026 کے قانون کے فارغ التحصیل طلبہ کو وکلا کے طور پر رجسٹر نہ کریں۔ یہ ہدایت اس وقت دی گئی جب طلبہ نے چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کو یونیورسٹی کی کانووکیشن تقریب میں مدعو کیے جانے کی مخالفت کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ بعد میں بی سی آئی نے یہ حکم واپس لے لیا اور اس کے بجائے کانووکیشن میں چیف جسٹس کی شرکت کے خلاف طلبہ کی مہم کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔
اویسی نے سوال اٹھایا کہ بی سی آئی یا اس کے چیئرمین کو اس طرح کی کارروائی کرنے کا اختیار کہاں سے حاصل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو اپنی یونیورسٹی میں کسی عوامی شخصیت کی شرکت کی مخالفت کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ لوگ طلبہ کے خیالات سے اختلاف کر سکتے ہیں، لیکن محض اس لیے ان کے مستقبل کو خطرے میں نہیں ڈالا جانا چاہیے کہ ان کا موقف بااختیار افراد کے لیے ناگوار ہے۔
اویسی نے مزید الزام لگایا کہ بظاہر اس کارروائی کا بڑا مقصد قانون کی یونیورسٹیوں میں آزادانہ سوچ کی حوصلہ شکنی کرنا اور ایک ایسی تعلیمی ثقافت قائم کرنا ہے جس میں طلبہ ہر معاملے میں حکام کی ہاں میں ہاں ملائیں۔
اس واقعے کو ’’نوجوانوں کی کھلم کھلا دھونس‘‘ قرار دیتے ہوئے اویسی نے کہا کہ بظاہر یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ طلبہ کو ’’قطار میں لگ جانا چاہیے‘‘ اور اقتدار رکھنے والوں کو چیلنج نہیں کرنا چاہیے۔
بعد ازاں بی سی آئی نے داخلے اور رجسٹریشن سے متعلق پابندی واپس لے لی، جس کے بعد 2026 میں نالسار سے قانون کی تعلیم مکمل کرنے والے تمام طلبہ کو ریاستی بار کونسلوں میں بطور وکیل رجسٹریشن کرانے کی اجازت مل گئی، تاہم طلبہ کی مہم سے متعلق تحقیقات برقرار رکھی گئی ہیں۔