تازہ ہوا اور صحت مند ماحول کے لیے شجرکاری ناگزیر، پلاسٹک کے بجائے اسٹیل کی بوتلوں کے استعمال پر زور
گرین سیکیور فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام بی ایم برلا سائنس میوزیم کے بھاسکر آڈیٹوریم میں ماحولیاتی بحالی، جنگلات کے تحفظ اور پائیدار طرزِ زندگی کے فروغ کے موضوع پر ایک اہم سیمینار منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر ماہرین ماحولیات، سائنس دانوں، اساتذہ، کاروباری شخصیات اور پالیسی سازوں نے شرکت کرتے ہوئے ماحولیات کے تحفظ اور عوامی شعور بیداری کی ضرورت پر زور دیا۔
حیدرآباد: گرین سیکیور فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام بی ایم برلا سائنس میوزیم کے بھاسکر آڈیٹوریم میں ماحولیاتی بحالی، جنگلات کے تحفظ اور پائیدار طرزِ زندگی کے فروغ کے موضوع پر ایک اہم سیمینار منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر ماہرین ماحولیات، سائنس دانوں، اساتذہ، کاروباری شخصیات اور پالیسی سازوں نے شرکت کرتے ہوئے ماحولیات کے تحفظ اور عوامی شعور بیداری کی ضرورت پر زور دیا۔
سیمینار سے خطاب کرنے والوں میں این بالا رام (آئی آر ایس)، راہل جادھو (آئی ایف ایس)، اے ایل نتھن کمار، ڈاکٹر پونا سنگھل، شلپا گڈورو، پروفیسر محمد حسین، گرین سیکیور فاؤنڈیشن کے بانی و سی ای او آدتیہ پالوی اور صدر جمہوریہ ایوارڈ یافتہ ماہر تعلیم و سماجی رہنما ڈاکٹر ساجدہ خان شامل تھے۔
مقررین نے کہا کہ قدرتی ماحول اور جنگلات کا تحفظ ہر شہری کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جدید طرز زندگی کے باعث لوگ فطرت سے دور ہوتے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں صحت اور ماحول دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف باغات اور جنگلات کی سیر کافی نہیں بلکہ درختوں کے تحفظ اور ماحول دوستی کو عملی زندگی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔
ماہرین نے تعلیمی نصاب میں ماحولیات، شجرکاری اور فطرت سے انسان کے تعلق کو شامل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگلات تازہ ہوا اور صحت مند ماحول فراہم کرتے ہیں، اس لیے ان کا تحفظ ناگزیر ہے۔
سیمینار میں پلاسٹک کے استعمال میں کمی لانے کی اپیل کرتے ہوئے مقررین نے گھروں اور دفاتر میں پلاسٹک کی بوتلوں کے بجائے اسٹیل کی بوتلوں کے استعمال کا مشورہ دیا۔ اسی طرح چائے اور دیگر مشروبات کے لیے کاغذی کپوں کے بجائے اسٹیل کے کپ استعمال کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
مقررین نے کہا کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید ٹیکنالوجی نے دنیا میں بڑی تبدیلیاں پیدا کی ہیں، تاہم ماحولیاتی تحفظ اور قدرتی وسائل کی بقا پر توجہ دینا اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ انہوں نے عوامی شعور بیدار کرنے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
شہر حیدرآباد کو تیزی سے "کنکریٹ کے جنگل” میں تبدیل ہونے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ صفائی ستھرائی، شجرکاری اور ماحول دوست عادات کو فروغ دیے بغیر صحت مند معاشرہ تشکیل نہیں دیا جا سکتا۔ طلبہ، اساتذہ اور شہریوں پر زور دیا گیا کہ وہ اپنے گھروں، محلوں اور تعلیمی اداروں کے اطراف کم از کم ایک درخت ضرور لگائیں اور اس کی دیکھ بھال کریں۔
سیمینار میں پانی اور خوراک کے ضیاع کی روک تھام پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ مقررین نے کہا کہ پانی کی ہر بوند قیمتی ہے اور اس کے تحفظ کے لیے بچپن سے ہی بچوں میں شعور پیدا کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح کھانے کو ضائع کرنے کے بجائے ضرورت کے مطابق تیار اور استعمال کرنے کی تلقین کی گئی۔
اس موقع پر جے سی آئی سکندرآباد کی جانب سے شلپا دیوتا لنگا نے شرکاء میں مفت اسٹیل واٹر بوتلیں تقسیم کیں، جبکہ گرین سیکیور فاؤنڈیشن نے تمام شرکاء کو شرکت کے اسناد اور پودے بھی پیش کیے۔
تقریب کے دوران ماہر تعلیم محمد حسام ریاض، ممتاز شاعر لطیف الدین لطیف، محمد حسین قادری عارف، ڈاکٹر زلیخہ، فیشن ڈیزائنر شہناز خان اور دیگر شخصیات کی تہنیت بھی کی گئی۔
تقریب کے اختتام پر تمام شرکاء نے عہد کیا کہ وہ شجرکاری، ماحولیات کے تحفظ، پانی کی بچت اور عوامی شعور بیداری کے لیے عملی کردار ادا کریں گے اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق دی گئی ہدایات پر عمل کریں گے۔