پولیس نے پارلیمنٹ کے پاس پہنچے مظاہرین پر چھوڑے آنسو گیس کے گولے
علاقے میں حکم امتناعی نافذ ہونے اور پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے پہلے دن علاقے میں سکیورٹی کے وسیع انتظامات کیے گئے تھے۔
نئی دہلی : نیٹ-یو جی پیپر لیک کے مسئلے پر مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کے ساتھ پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس کے نزدیک پہنچے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے آنسو گیس کا استعمال کیا اور کچھ مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی طرف سے منعقدہ ‘پارلیمنٹ چلو’ پروگرام کے تحت بڑی تعداد میں جنتر منتر پر صبح سے ہی مظاہرین کی بھیڑ جمع ہونے لگی اور پولیس نے جگہ جگہ راستوں پر بیریکیڈ لگا رکھے تھے۔ کچھ مظاہرین جنتر منتر سے نکل کر ریل بھون کے چوراہے تک آ گئے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف بڑھ رہے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے آنسو گیس کے کئی گولے چھوڑے۔
مظاہرین طلبہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے سڑک پر بیٹھ گئے اور نعرے بازی کرنے لگے۔ کچھ طلبہ نے بیریکیڈ پار کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس کے سخت بندوبست کی وجہ سے وہ بیریکیڈ پار نہیں کر سکے اور پھر سڑک پر دیگر ساتھیوں کے ساتھ دھرنے پر بیٹھ گئے۔ پولیس کے سمجھانے بجھانے کے باوجود مظاہرین طلبہ وہیں ڈٹے رہے۔ بعد میں پولیس کے کچھ سینئر افسران وہاں پہنچے اور وہاں طلبہ سے بات کی لیکن مظاہرین طلبہ اپنی ضد پر اڑے رہے۔ جس پر پولیس نے ہلکی طاقت کا استعمال کیا اور مظاہرین نوجوان پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئے۔ اس کے بعد پوری سڑک کو خالی کرایا گیا۔
علاقے میں حکم امتناعی نافذ ہونے اور پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے پہلے دن علاقے میں سکیورٹی کے وسیع انتظامات کیے گئے تھے۔
پولیس نے امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کر کے پارلیمنٹ کی طرف بڑھ رہے کئی مظاہرین کو حراست میں لے کر پولیس کی گاڑی میں قریبی تھانے لے گئے۔ قابلِ ذکر ہے کہ سی جے پی نے 20 جون کو جنتر منتر پر مسٹر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کے ساتھ دھرنا مظاہرہ شروع کیا تھا۔
ماہرِ تعلیم سونم وانگچک نے 28 جون کو اسی مطالبے کے ساتھ بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ دہلی پولیس نے ہفتہ کی صبح مسٹر وانگچک کو زبردستی ہسپتال میں داخل کروا دیا تھا، جس کے بعد جنتر منتر پر مظاہرین کی تعداد میں کئی گنا اضافہ دیکھنے کو ملا اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ آج پہلے سے طے شدہ مارچ میں شامل ہوئے۔