تلنگانہ

تلنگانہ میں پولیس کی سخت کارروائی، نمبر پلیٹ میں ہیر پھیر کرنے والوں پر نظر

نئی گاڑی خریدنے پر پہلے ٹی آر نمبر دیا جاتا ہے ایک ماہ کے اندر مستقل نمبر مل جاتا ہے لیکن کئی لوگ سالہا سال تک عارضی نمبر سے ہی گاڑیاں چلا رہے ہیں تاکہ جرمانے سے بچ سکیں۔ پولیس نے بتایا کہ اوور اسپیڈنگ یا ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر اسپیڈ گن اور تصاویر کے ذریعہ چالان کاٹ رہے ہیں۔

حیدرآباد: تلنگانہ بھر میں پولیس نے گاڑیوں کی تلاشی سخت کر دی ہے۔ ہیلمٹ نہ پہننے یا تیز رفتاری سے گاڑی چلانے والوں پر جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
نارائن پیٹ میں ضلع کانگریس کی نئی کمیٹی کا اعلان، پارٹی کو گاؤں کی سطح تک مضبوط بنانے پر زور
علمِ بی بی مبارک کی سواری کے لیے ہاتھی کی منظوری، میر فراست علی باقری کا حکومتِ تلنگانہ اور جی کشن ریڈی سے اظہارِ تشکر
نیشنل اوورسیز اسکالرشپ: گاؤں اور چھوٹے قصبوں کے طلبہ کے عالمی تعلیمی خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا ذریعہ
وارث سرکاروطن ؒ مولانا پیر نقشبندی سے ڈاکٹر ذاکر شاہ افتخاری کی 25رکنی وفد کے ہمراہ روحانی ملاقات

ان جرمانوں سے بچنے کے لیے کچھ افراد نمبر پلیٹ سے ایک ہندسہ ہٹا کر یا اس پر سیاسی جماعتوں، لیڈروں کے نام اور نعرے لکھوا کر گاڑیاں چلا رہے ہیں لیکن پولیس کے جال میں پھنسنے کے بعد وہ کوئی جواب نہیں دے پا رہے۔ کچھ ڈرائیور نمبر پلیٹ صاف نظر نہ آئے اس کے لیے اس پر کاغذ چپکا دیتے ہیں یا مٹی لگا دیتے ہیں تاکہ کیمرے میں نمبر صاف نہ دکھے اور جرمانہ نہ ہو۔

کچھ لوگ جان بوجھ کر گاڑی چلاتے وقت اپنا پاؤں یا ہاتھ نمبر پلیٹ کے آگے کر لیتے ہیں جس سے نمبر نظر نہیں آتا۔ اس دوران توازن بگڑنے سے حادثات بھی ہو رہے ہیں۔

بعض لوگ چھ ہندسوں والے نمبر میں آدھا نمبر کاغذ سے ڈھانپ دیتے ہیں تاکہ شناخت نہ ہو سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان طریقوں کو استعمال کرنے والوں میں سماج دشمن عناصر بھی شامل ہو سکتے ہیں اس لیے فوری کارروائی ضروری ہے۔

نئی گاڑی خریدنے پر پہلے ٹی آر نمبر دیا جاتا ہے ایک ماہ کے اندر مستقل نمبر مل جاتا ہے لیکن کئی لوگ سالہا سال تک عارضی نمبر سے ہی گاڑیاں چلا رہے ہیں تاکہ جرمانے سے بچ سکیں۔ پولیس نے بتایا کہ اوور اسپیڈنگ یا ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر اسپیڈ گن اور تصاویر کے ذریعہ چالان کاٹ رہے ہیں۔

حیدرآباد سے مسروقہ گاڑیوں کو نظام آباد ضلع کے بانسواڑہ علاقہ میں آدھی قیمت پر فروخت کیا گیا۔ بغیر دستاویزات کے گاڑیاں خریدنے والے کئی لوگ دھوکے کا شکار ہوئے۔ پولیس نے تلاشی کے دوران یہ گاڑیاں پکڑ کر تحقیقات کیں تو معلوم ہوا کہ وہ حیدرآباد اور دیگر شہروں سے مسروقہ ہیں۔

اب تک تقریباً دس گاڑیاں پکڑ کر حیدرآباد پولیس کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ حکام نے مشورہ دیا ہے کہ گاڑیاں خریدتے وقت کاغذات کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے ورنہ خریدار خود مشکلات میں پھنس سکتا ہے۔