تلنگانہ

تلنگانہ میں پولنگ ختم، رائے دہی بحیثیت مجموعی پرامن

دارالحکومت حیدرآباد میں رائے دہی کے فیصد میں کمی دیکھی گئی۔ ریاست کے بعض مراکز رائے دہی میں الکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں خرابی کے سبب رائے دہی میں رکاوٹ بھی درج کی گئی۔

حیدرآباد: تلنگانہ میں چند واقعات کے ماسوا رائے دہی بہ حیثیت مجموعی پرامن رہی۔ ماونوازوں سے متاثرہ علاقوں کے حلقوں میں شام 4 بجے رائے دہی کا اختتام عمل میں آیاجب کہ 106 اسمبلی حلقوں میں رائے دہی شام 5 بجے اختتام کو پہنچی۔حکام نے 5 بجے قطار میں ٹہرے افراد کو بھی حق رائے دہی سے استفادہ کا موقع دیا۔

متعلقہ خبریں
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
نارائن پیٹ میں ضلع کانگریس کی نئی کمیٹی کا اعلان، پارٹی کو گاؤں کی سطح تک مضبوط بنانے پر زور
علمِ بی بی مبارک کی سواری کے لیے ہاتھی کی منظوری، میر فراست علی باقری کا حکومتِ تلنگانہ اور جی کشن ریڈی سے اظہارِ تشکر
نیشنل اوورسیز اسکالرشپ: گاؤں اور چھوٹے قصبوں کے طلبہ کے عالمی تعلیمی خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا ذریعہ
وارث سرکاروطن ؒ مولانا پیر نقشبندی سے ڈاکٹر ذاکر شاہ افتخاری کی 25رکنی وفد کے ہمراہ روحانی ملاقات

شہری علاقوں کے برخلاف دیہی علاقوں میں رائے دہی کے سلسلہ میں رائے دہندوں کا کافی جوش و خروش دیکھا گیا۔ صبح ہی سے مراکز رائے دہی میں مردوخواتین کی طویل قطاریں دیکھی گئیں۔ کئی نوجوان لڑکے لڑکیوں نے بھی اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا۔

 انہوں نے پہلی مرتبہ رائے دہی میں حصہ لینے کے تجربہ کو مثبت قرار دیتے ہوئے جمہوریت کے اس جشن میں پہلی مرتبہ حصہ داری حاصل کرنے پر مسرت کا اظہار کیا۔ اضلاع میں رائے دہی کا فیصد قابل لحاظ رہا ۔

جب کہ ریاستی دارالحکومت حیدرآباد میں رائے دہی کے فیصد میں کمی دیکھی گئی۔ ریاست کے بعض مراکز رائے دہی میں الکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں خرابی کے سبب رائے دہی میں رکاوٹ بھی درج کی گئی۔

تلنگانہ میں ہوئی رائے دہی کا تناسب 60 تا 70 فیصد کے درمیان دیکھا جارہا ہے۔ تاہم ابھی اس سلسلہ میں قطعی اعدادوشمار جاری نہیں ہوئے ہیں۔

 آج ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی اتوار 3 دسمبر کو کی جائے گی۔ تلنگانہ کے علاوہ مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ اور میزورم میں بھی ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی 3 دسمبر کو کی جائے گی۔