ایشیاء

پاکستان میں انتخابات کی تیاریاں جاری، الیکشن کمیشن متحرک

نیشنل اسمبلی، سندھ اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیوں کی میعاد آئندہ دو ماہ میں ختم ہونے کے قریب ہے۔ ایسے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان اکٹوبر میں ہونے والے عام انتخابات کی تیاریاں کررہا ہے۔

اسلام آباد: پاکستان میں انتخابات کی تیاریاں ہورہی ہیں جبکہ انتخابی تنظیم نے رائے دہی کے انتظامات کاآغاز کردیا ہے۔

متعلقہ خبریں
پاکستان اصل مسئلہ نہیں: غلام نبی آزاد
آخر پاکستان پر بات کیوں ہورہی ہے جب انتخابات ہندوستان میں ہورہے ہیں:پرینکا
پاکستانی آئی ایس آئی کے لئے جاسوسی، ایک پنجابی گرفتار
دوہری مہارت کے کھلاڑی
رمضان میں ہند۔ پاک مچھیروں کی رہائی کا مطالبہ

نیشنل اسمبلی، سندھ اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیوں کی میعاد آئندہ دو ماہ میں ختم ہونے کے قریب ہے۔ ایسے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان اکٹوبر میں ہونے والے عام انتخابات کی تیاریاں کررہا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو آنے والے عام انتخابات کی تیاریوں سے واقف کروایاگیا۔

ذرائع کے مطابق راجہ کو بتایا گیا کہ ضروری انتخابی مواد کے لیے کاغذات کا حصول عمل میں لایا گیا ہے اور رائے دہی کے پرچوں کی تکمیل کرلی گئی ہے اور اسے محفوظ رکھنے کی کارروائی کو یقینی بنایا گیا ہے۔

مزید براں مراکز رائے دہی کی فہرست کے مسودہ کو بھی تیار کرلیا گیا ہے جسے اعلامیہ کے فوری بعد ریٹرننگ آفیسر کو فوری روانہ کردیاجائے گا۔ قانون کے مطابق رجسٹریشن اخراج اور رائے دہندوں کی تصدیق کی آخری تاریخ 13جولائی ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے شعور بیداری مہم کاآغاز کردیا گیا ہے اور وہ رائے دہی کے پرچوں کی طباعت اور تقسیم کے لیے نیشنل ڈیٹا بیس ریگولیٹری اتھارٹی کے ساتھ مسلسل ربط قائم کئے ہوئے ہیں جس میں رائے دہی مواد اور بیالٹس کا حصول اور بیالٹس کی تکمیل بھی شامل ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے موجودہ اتحادی حکومت انتخابات کے لیے تیار ہے جبکہ اس کے سب سے بڑے حریف عمران خان اور ان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کو 9مئی کے تشدد کے بعد ان کے قانونی موقف سے محروم کردیا گیا ہے۔

ایک سینئر سیاسی مبصر جاوید صدیق نے بتایا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے اقتدار پر قبضہ برقرار رکھنے اور اتحادی حکومت کی دوبارہ تشکیل کے لئے اب راہ ہموار ہوگئی ہے۔ حکومت کے لیے عمران خان سب سے بڑا خطرہ تھے۔ اب ان کی پارٹی ٹوٹ گئی ہے اور سیاسی موقف بھی انتہائی کمزور ہوگیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت حکومت کے لیے کوئی مسائل یا چیالنجس نہیں ہے جبکہ وہ اپنی شراکت داروں کے ساتھ دوسری اتحادی حکومت تشکیل دے سکتی ہے۔

ماضی میں یہ بتایا گیا تھا کہ حکومت کو انتخابات میں شکست کا اندیشہ ہے لہذا وہ عام انتخابات میں تاخیر کرنا چاہتی ہے جبکہ اسے طاقتور سیاسی چیالنج سے اندیشہ تھا جو عمران اور ان کی پارٹی کی وجہ سے پیدا ہوا تھا۔