شہزادی گلبدن بیگم،’’ہمایوں نامہ ‘‘ کی خالق بابر کی لاڈلی دُختر
یوں تو مغل تاریخ شہزادی جہاں آراء شہزادی زیب النساء مخفی، ملکہ نور جہاں، ممتاز محل اور دیگر بیگمات اورشہزادیوں کے علمی وادبی کارناموں سے بھری پڑی ہے لیکن شہزادی گلبدن کا نام اس فہرست میں سب سے اوپر نظر آتا ہے۔

خالد بہزاد ہاشمی:۔
شہزادی گلبدن بیگم اس عظیم باپِ ظہیرالدین بابر کی لاڈلی بیٹی تھی جس نے سینکڑوں سال کی تاریخ بدل کر عظیم مغل سلطنت کی بنیاد رکھی۔ شہزادی گلبدن کا سب سے بڑا کارنامہ ’’ہمایوں نامہ‘‘ کی تصنیف ہے جس نے اس کا نام تاریخ میں زندہ جاوید کردیا۔
یوں تو مغل تاریخ شہزادی جہاں آراء شہزادی زیب النساء مخفی، ملکہ نور جہاں، ممتاز محل اور دیگر بیگمات اورشہزادیوں کے علمی وادبی کارناموں سے بھری پڑی ہے لیکن شہزادی گلبدن کا نام اس فہرست میں سب سے اوپر نظر آتا ہے۔
شہزادی گلبدن بیگم دلدارہ بیگم کے بطن سے1523ء میں کابل میں پیدا ہوئی۔ دلدارہ بیگم آغاچہ(مبارک بی بی)منصور یوسف زئی کی بیٹی تھی ۔ بابر نے جب ہندوستان پرحملہ کیاتو شہزادی کی عمردو سال تھی جبکہ بابرکی وفات کے وقت وہ آٹھ سال کی تھی۔
بابر کی سب سے چہیتی بیوی ماہم بیگم جس کے ذکر سے تزک بابری اورہمایوں نامہ اوددیگر کتب بھری پڑی ہیں، نے شہزادی کو اپنی بیٹی بنالیا تھا کیونکہ اسے ہمایوں کی پیدائش کے بعدپیدا ہونے والے چاروں بچے کمسنی میں ہی موت کی آغوش میں چلے گئے تھے جس کے بعدماہم بیگم بہت غمزدہ رہنے لگی تھی۔
ماہم بیگم چونکہ شاہی گھرانے کی سب سے بڑی خاتون اورولی عہدہمایوں کی ماں تھی اسی لیے اسے دیگر بچوں کی پرورش کا حق حاصل تھا۔ گلبدن بیگم کی شادی16سال کی عمر میں خواجہ خضرخان مغل سے ہوئی تھی۔
ظہیر الدین بابر کا علمی وادبی ذوق ایک عالم پر آشکارا ہے۔ بچپن سے بڑھاپے تک ہنگامہ خیز زندگی کے دوران بھی اس کا یہ ذوق نہ صرف اسی طرح تزوتازہ رہتا ہے بلکہ اس میں مزید نکھاراوربانکپن بھی آتا ہے۔
’’تزک بابری‘‘ بابر کی سوانح عمری ہی نہیں بلکہ علم وادب کا شہ پارہ بھی ہے جس سے اس دور کے افغانستان اورہندوستان کی معاشرت ،زبان ،جغرافیائی حالات موسموں، پھلوں،چرند،پرند، باغات اورجھرنوں کا باآسانی موازنہ کیاجاسکتا ہے۔
تزک بابری کے مترجم رشید اخترندوی کے بقول بابراعلیٰ پایہ کامصنف اورکہنہ مشق شاعر تھا۔سادگی تحریر کے حوالے سے تزک بابری ایک یگانہ روزگار تصنیف ہے اور اسی تزک کی بدولت وہ ایک عظیم مصنف کے طورپر سامنے آتا ہے۔‘‘
بابر کے بیٹوں کامران ،ہندال اور عسکری کو بھی علم وادب اورشاعری کا ذوق ورثے میں ملاتھا اوریہی وہ ماحول تھا جس میں گلبدن بیگم نے آنکھ کھولی اور پرورش پائی۔ بابر کی طرح اس کے بیٹوں اوربیٹیوں کو بھی ترک اورفارسی زبان وادب پرکمال دسترس حاصل تھی۔
آج کا قاری اور مورخ چارسو سال قبل مغل بیگمات اورشہزادیوں کی نگارشات اورتصنیفات دیکھ کر حیرت زدہ ہوجاتا ہے کہ وہ علم وادب کے میدان میں مردوں سے کسی طور پیچھے نہ تھیں اگرآج ہم ان کا موازنہ موجودہ دورکی شاعرات اورمصنفین سے کریں تو بھی مغل شہزادیوں کا پلڑا بھاری نظرآتا ہے۔
گلبدن بیگم کی چھوٹی بہن گل رخ بیگم بھی ایک اعلیٰ ادیب شاعرہ اور انشاپرداز تھی۔ یہاں اس امرکی بھی وضاحت ہوتی ہے کہ تیموری شہنشاہوں نے شہزادوں کے ساتھ شہزادیوں کوبھی زیورعلم سے آراستہ کیاتھا اور اس سلسلہ میں کوئی تفریق اور تعصب کا مظاہرہ نہیں کیاتھا۔
گل رخ بیگم صالح سلطان بیگم کے بطن سے تھی۔ نواب حسن خان نے اپنی معروف تصنیف ’’صبح گلشن‘‘ میں گل رخ بیگم کا مندرجہ ذیل شعردرج کیا ہے۔
ہیچ کہ آں شوخ گل رخسار بے اغیارنیست
سمرقند کی زبان اس دورمیں ترکی تھی اوربابر کا بیشتر وقت سمرقند میں ہی گزرا اسی لئے اس نے ’’تزک بابری‘‘ ترکی زبان میں قلمبند کی۔ اسی طرح شہزادی گلبدن کا زیادہ تروقت کابل میں بسرہوا جہاں کی زبان فارسی تھی اس لئے گلبدن نے ’’ہماریوں نامہ‘‘ فارسی میں لکھا اور بعدازاں یہی ہمایوں نامہ ہندوستان میں فارسی زبان کے فروغ کا باعث بنا اور فارسی کا رواج بڑھتا چلاگیا اوراسے عروج حاصل ہوا جبکہ چغتائی زبان ترکی پر فارسی زبان غالب آتی چلی گئی۔
1857ء کے پرآشوب زمانہ میں گلبدن کا ہمایوں نامہ بالکل نیست ونابود ہوگیاتھا۔ مگر خوش نصیبی سے اس کا ایک نامکمل نسخہ کرنل جارج ولیم ہملٹن کے ذریعہ 1867ء میں برٹش میوزیم لندن کے کتب خانہ میں پہنچ گیا۔
ہمایوں نامہ کے ترجمہ کے حرف آغاز میں رشیدندوی صاحب نے بیباک کہا ہے کہ ’’غدرمیں شریک ایک انگریز کرنل جارج ولیم ہمسکٹن نے یہ مسودہ دوسرے قیمتی مسودات کے ساتھ دہلی میں مال غنیمت کے طورپر پایا پھرانکی بیوہ نے دوسرے 351قیمتی مسودات کے ہمراہ برٹش میوزیم کے ہاتھ فروخت کردیا۔
سب سے پہلے ڈاکٹرچارلس ریونے اس بیش بہا تصنیف کا تعارف اہل علم سے کرایا۔1902ء میں مسز ابیسینٹ ،ہیورج نے اسے حواشی وتراجم کے ساتھ مجلد کرکے رائل ایشیاٹک سوسائٹی لندن کی طرف سے شائع کرایا۔ اب یہ کتاب عام ہے اورکئی علم دوست خاتون یونیورسٹیوں میں بطور نصاب رائج ہے۔
ہیورج نے ہمایوں نامہ کے نسخوں کویکجا کیااور ایڈٹ کرکے 1902ء میں انگریزی ترجمہ کرکے لندن میں شائع کرایا ۔ ہمایوں نامہ کے دیباچہ میں خاتون نے ہمایوں کی مفضل سوانح عمری لکھی ہے اور کتاب میں جتنے بھی بیگمات کے نام آئے۔ ان میں سب کے حالات فلمبند کئے ہیں۔
ڈاکٹر ریونے برٹش میوزیم کی کیٹلاگ میں اس پرنوٹ لکھا تھا جس کے مطابق یہ نسخہ سترھویں صدی میں اصل مسودہ سے نقل کیا گیاتھا مگر اصل مسودہ تودستبرہ زمانہ کی نذرہوگیا، البتہ اس کی نقل رہ گئی۔
1902ء میں ہمایوں نامہ جب لندن سے شائع ہوا تو اس کی اشاعت پرمولانا شبلی مرحوم کو بڑی مسرت ہوئی تھی اوراس پر ’’الندوہ‘‘ جلد 5شمارہ3میں ایک مفصل ریویوتحریر فرمایا تھا۔ مولانا شبلی لکھتے ہیں۔
فارسی زبان میں سادہ اور صاف نثر نگاری کا عمدہ نمونہ تزک جہانگیری اوررقعات عالمگیری ہیں اوران میں شبہ نہیں ہے کہ یہ کتابیں سادگی اورلطافت کے لحاظ سے اس قابل ہیں کہ ہزاروں ظہوری اوروقائع نعمت خان ان پر نثارکردی جائیں
لیکن انصاف یہ ہے کہ ہمایوں نامہ کچھ ان سے بھی آگے بڑھا ہوا ہے۔ اس کے چھوٹے چھوٹے فقرے ،سیاہ اوربے تکلف الفاظ ،روزمرہ کی عام بول چال ،طرزادا کی بے ساختگی دل کو بے اختیار کردیتی ہے۔‘‘
عبارت کی سادگی اورطرزادا کے بے ساختہ ہونے کی مثالیں ہر جگہ موجود ہیں۔ مولانا شبلی نے نمونے کے طورپر چند اقتباسات مزید پیش کئے ہیں جو مقامات شبلی جلد چہارم میں ملاخطہ کئے جاسکتے ہیں۔
مولانا شبلی رقمطراز ہیں کہ تاریخی اعتبار سے اس کتاب کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں اس عہد کے تمدن،شائستگی ،معاشرے اورخانگی زندگی کے مختلف گوشوں اورپہلوؤں کوروشن کرکے دکھایا گیا ہے، مثلاً وہ کسی شادی یاجلسہ کا حال بیان کرتی ہے توبالکل ہوبہو اس کی تصویر کھینچ دیتی ہے اس کے عہدے کے عورتوں سے متعلق وہ بہت سی نئے معلومات فراہم کرتی ہے مثلاً عورتیں لکھنے پڑھنے کے علاوہ فنون سپہ گری سے بھی آراستہ و پیراستہ ہوتی تھیں، سفراور سیروشکار میں عموماً گھوڑے پرسوار ہوکر نکلتی تھیں، بعض اوقات وہ مردانہ لباس بھی زیب تن کرتی تھیں۔
مہرانگیز بیگم (مظفرحسین مرزا بیگرہ کی بیٹی)کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں کہ وہ مردانہ لباس میں ملبوس رہتی تھی اورزمانے کی چلن کے مطابق مختلف ہنرمثلاً زرہ گیرتراشی ،چوگان بازی، تیراندازی اورساز بجانے میں ماہرتھی۔
ہمایوں جب ایران گیاتو اس کی ایک بہن ہمیشہ ایک گھوڑے پرسوار اس کے عقب میں چلتی تھی۔ خاندان کے آدمی جب کبھی یکجا جمع ہوتے تو عورتیں بھی جمع ہوتیں اور ناچ گانے کا پروگرام چلتا لیکن یہ احتیاط ملحوظ رکھاجاتا تھا کہ اس وقت کوئی بیگانہ آدمی نہ ہو، عورتوں کونہایت احترام اورعزت کی نگاہ سے دیکھا جاتاتھا۔
بابر کی بیوی ماہم بیگم جب کابل سے ہندوستان آئیں تو دوکوس تک پیدل استقبال کیاگیا۔ سیاسی اور ملکی معاملات میں عورتوں سے مشورہ طلب کیاجاتاتھا اورہر قسم کے امور میں ان کی شرکت ضروری سمجھی جاتی تھی۔ وغیرہ وغیرہ۔
مولانا شبلی مرحوم نے اس کتاب کی ایک اور تاریخی اہمیت اور خصوصیت یہ بتائی ہین کہ گلبدن بیگم تاریخی واقعات لکھنے میں اس امرسے بخوبی واقف تھیں کہ کس واقعہ کو سمیٹ کراور کس واقعہ کو پھیلا کر لکھنا چاہیے۔ وہ خوب جانتی ہے کہ کونسا واقعہ کیا اثررکھتا ہے اوراس لئے اس کے اسباب وعلل سے کہاں تک بحث کرنی چاہیے۔
بقول مورخ محمودعلی ’’گلبدن بیگم‘‘ کا ’’ہمایوں نامہ‘‘ ہمایوں عہد کے تمدن ،معاشرتی اورتاریخی واقعات کے لیے بے مثل کتاب اورقیمتی ماخذہے۔‘‘
’’ریاض الشعراء ‘‘ اور’’مخزن الغرائب‘‘ میں گلبدن کا نام بھی شعرا کی فہرست میں درج ہے لیکن دونوں تذکروں میں اس کا صرف مندرجہ ذیل ایک شعرمذکورہے اور مسز بیورج نے اسی شعرکو ہمایوں نامہ کے دیپاچہ میں میرمہدی شیرازی کے تذکرۃ الخواتین سے نقل کیا ہے، شعریہ ہے:
ہرپری روکہ اوباعاشق خودبازیست
تویقین می دان کا ہیچ ازعمربرخوردارنیست
مصنف ’’داختران ہند‘‘ پروفیسر مولانا محمد علم الدین سالک، پروفیسر اسلامیہ کالج لاہور لکھتے ہیں کہ ’’گلبدن کی شاعری میں سادگی ،عام فہم الفاظ، دلنشین مضمون اورمحاورہ بندی نے کلام میں چارچندلگادیئے ہیں۔
دہلی کے معروف مورخ محمود علی اپنی کتاب مغل شہزادیوں میں لکھتے کہ ’’اعلیٰ تعلیم اوراس پر ذوق سلیم نے اس کی طبیعت میں وہ جوہر پیدا کئے کہ گلبدن بیگم علم الانشاء اور شاعری میں بقائے دوام کا تاج حاصل کرچکی ہے۔ وہ علم دوست اورعلم پرورتھی اوروہ عالموں کی بہت قدر کرتی تھی‘‘۔
شہزادی گلبدن بیگم نے بہت بھرپورزندگی گزاری ،اس کی زندگی کو تین ادوار میں تقسیم کیاجاسکتا ہے جن میں بلند کادور، جوانی، شادی، ہمایوں کی زندگی،تنزلی ،جلاوطنی اوراکبر کے عہد میں فراغت اورانتقال شامل ہیں۔ شہزادی گلبدن نے کمال کا حافظہ پایا تھا سو ’’ہمایوں نامہ‘‘ کی تدوین میں وہ اس تمام عہد کی عمدگی سے قلمبندکرتی ہے۔
منظر کشی اور وقائع نگاری دونوں ہی گلبدن بیگم کے مشتاق قلم کے سامنے دست بستہ نظرآتی ہے۔ وہ چھوٹی سے چھوٹی بات کواس کی تمام ترجزائیاں کے ساتھ اسے بھرپور طریقے سے قلمبند کرتی ہے کہ مذکورہ شخصیت مجسم تصور بن کر ہمارے سامنے آکھڑی ہوتی ہے اوربعض شخصیات کا وہ ایسا نقشہ کھینچتی ہے کہ قاری اس کے حسن ِ خوبی کا اسیربن کراس کردار اور شخصیت سے محبت اور انسیت پرمجبور ہوجاتا ہے اوراس میں گلبدن بیگم کو حاص ملکہ حاصل تھا۔
شہزادی گلبدن نے ’’ہمایوںنامہ‘‘ اپنے بھتیجے اکبر کی فرمائش پر1587ء کو قلمبند کیاتھا کیونکہ اکبرکو ’’اکبرنامہ‘‘ کی تصنیف کے لئے اپنے والد ہمایوں اوردادا بابر سے متعلق معلومات درکار تھیں چونکہ اس میں سے بہترمعلومات کوئی اور فراہم نہیں کرسکتا تھا۔
اکبر نامہ کی تدوین کے لئے لکھی جانے والی یہ ذیلی کتاب اپنی خصوصیات اوراہمیت کے باعث ایک اہم تاریخی دستاویز کا روپ دھارگئی اور اسے دیگر تاریخی کتب اور ماخذ پر برتری حاصل ہوگئی اوریوں بابر کی لاڈلی بیٹی کا نام تاریخ میں امرہوگیا اوریہ بات بلاشبہ کہی جاسکتی ہے کہ تیموری شہزادیوں کی علمی بزم کی فہرست میں شہزادی گلبدن کا نام سرفہرست ہے۔
لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتا کہ جہاں شہزادی گلبدن کی زندگی پراس کے والد بابر اور بھائی ہمایوں کی یادوں کے نقوش بہت گہرے اور واضح ہیں، وہیں اس کا قلم جاندارانہ بھی ہے… خاص طورپر اپنے بھائیوں (بابر کے بیٹوں)کی باہمی لڑائی اورچپقلش کو اس نے ممکنہ حد تک بہتر اور نرم کرکے دکھانے کی کوشش کی ہے۔
٭٭٭