تلنگانہ

تلنگانہ کانگریس میں ’’اوریجنل کانگریس بمقابلہ یلو کانگریس‘‘ تنازع شدت اختیار کر گیا

اسی طرح، ونپرتھی کے سینئر کانگریس رہنما چنّا ریڈی نے بھی حال ہی میں اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بی آر ایس سے کانگریس میں شامل ہونے والے میگھا ریڈی ان پر اور ان کے کارکنوں پر بالادستی قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حیدرآباد: تلنگانہ کانگریس میں ’’اوریجنل کانگریس بمقابلہ یلو کانگریس اور پارٹی میں شامل ہونے والے دیگر رہنماؤں‘‘ کا تنازع بتدریج شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ وزراء اور ارکان اسمبلی سے لے کر نچلی سطح کے کارکنوں تک، پرانے کانگریسی رہنماؤں اور دوسری جماعتوں سے آنے والے لیڈروں کے درمیان اختلافات اور ناراضگی کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔

جڑچرلہ سے کانگریس کے رکن اسمبلی انی ردھی ریڈی نے مبینہ طور پر اس معاملے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ٹی ڈی پی اور بی آر ایس سے کانگریس میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے بل جاری کیے جا رہے ہیں، جبکہ پرانے اور ’’اوریجنل کانگریس‘‘ سے وابستہ رہنماؤں کے بل کیوں جاری نہیں کیے جا رہے۔

اسی طرح، ونپرتھی کے سینئر کانگریس رہنما چنّا ریڈی نے بھی حال ہی میں اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بی آر ایس سے کانگریس میں شامل ہونے والے میگھا ریڈی ان پر اور ان کے کارکنوں پر بالادستی قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ونپرتھی حلقے میں کانگریس کے پرانے کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہیں پارٹی دفتر تک میں مناسب جگہ نہیں دی جا رہی۔ ان کا الزام ہے کہ دوسری جماعت سے آنے والے رہنما اپنے حامیوں کو ترجیح دے رہے ہیں، جبکہ برسوں سے کانگریس سے وابستہ کارکنوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

پارٹی کے ایک رکن اسمبلی نے مبینہ طور پر یہ بھی ناراضگی ظاہر کی کہ 2023 کے اسمبلی انتخابات کے بعد سے ان کے انچارج وزیر دامودر راج نرسمہا نے ایک مرتبہ بھی ان کے حلقے کا دورہ نہیں کیا اور نہ ہی پارٹی کارکنوں کے مسائل پر توجہ دی۔

منوگوڑ سے کانگریس کے رکن اسمبلی کوماتی ریڈی راج گوپال ریڈی نے بھی وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی کی قیادت کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بعض ساتھی وزراء بھی ان کے طرز عمل سے ناخوش ہیں، اگرچہ وہ کھل کر اپنی ناراضگی ظاہر نہیں کر پا رہے۔

نچلی سطح پر کانگریس کے پرانے کارکنوں میں اس بات کو لے کر شدید بے چینی پائی جا رہی ہے کہ نامزد عہدوں، کمیٹیوں کے انچارج اور دیگر سیاسی مواقع میں مبینہ طور پر دوسری جماعتوں سے آنے والے رہنماؤں اور ان کے حامیوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

پرانے کانگریسی کارکنوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی مدت کے تین سال گزر چکے ہیں اور اگلے انتخابات سے قبل عملی طور پر ان کے پاس محدود وقت باقی ہے۔ ایسے میں اب انہیں عہدے دینے اور اہمیت دینے کی یقین دہانیوں کو بعض کارکن محض سیاسی وعدے قرار دے رہے ہیں۔

کئی کارکنوں میں یہ بھی ناراضگی پائی جاتی ہے کہ جب اقتدار، عہدوں اور اختیارات کی تقسیم کا وقت تھا تو انہیں نظر انداز کیا گیا، لیکن جیسے جیسے انتخابات قریب آئیں گے، پارٹی کو دوبارہ پرانے اور وفادار کارکنوں کی ضرورت محسوس ہوگی۔

پارٹی کے اندر بڑھتی شکایات اور تنقید کے بعد، اطلاعات کے مطابق کانگریس کی تلنگانہ انچارج میناکشی نٹراجن نے زمینی سطح پر اجلاسوں اور مشاورت کا سلسلہ شروع کیا ہے تاکہ ناراض کارکنوں اور رہنماؤں کے مسائل کو سمجھا جا سکے۔

سیاسی حلقوں میں یہ بحث بھی زور پکڑ رہی ہے کہ اگر پارٹی قیادت نے پرانے اور نئے کانگریسی رہنماؤں کے درمیان بڑھتے اختلافات کو بروقت حل نہیں کیا تو ’’اوریجنل کانگریس بمقابلہ یلو کانگریس‘‘ کا تنازع آئندہ انتخابات میں کانگریس کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن سکتا ہے۔

ایک معروف انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق، متعدد کانگریس وزراء، ارکان اسمبلی اور کارکنوں سے بات چیت کے دوران پارٹی کے اندر موجود ان اختلافات اور ناراضگیوں کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔