کھیل
ٹرینڈنگ

رویندرا جڈیجہ ہم سے بات کرتا ہے اور نہ ہم اس سے بات کرتے ہیں، بہو نے شادی کے تین ماہ میں اپنا اصلی چہرہ دکھا دیا، پڑھئے کرکٹر کے والد انیرودھ جڈیجہ کے مزید سنسنی خیز انکشافات

انیرودھ جڈیجہ نے بتایا کہ ریوابا کے والدین کا بھی ہمارے معاملات میں عمل دخل شروع ہوگیا اور وہ آج دو کروڑ روپے مالیتی بنگلے میں رہتے ہیں جو رویندر جڈیجہ کی کمائی سے خریدا گیا ہے۔

نئی دہلی: ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے ایک اہم رکن رویندر جڈیجہ کے والد انیرودھ جڈیجہ نے اپنے بیٹے اور بہو کے تعلق سے حیران کن انکشافات کئے ہیں۔

متعلقہ خبریں
میرے کام کا بوجھ دوسروں سے دو یا تین گنا زیادہ ہے: ہاردک پانڈیا
شعلے 2 جلد آرہی ہے۔ ہاردیک پانڈیا کا دلچسپ ٹویٹ
Love Marriage پر جھڑپ، 3 نوجوان ہلاک
یوم عاشقان کے دن محبت کی سزا۔ جانئے یہ سنسنی خیز راز
بھوک سے زیادہ کھانا

رویندرا جڈیجہ کے والد انیرودھ سنگھ جڈیجہ نے نہ صرف اپنے بیٹے بلکہ اس کی بیوی ریوابا جڈیجہ کے بارے میں بھی چونکا دینے والا تبصرہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ رویندر جڈیجہ نے 2016 میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سیاست دان ریوابا جڈیجہ سے شادی کی تھی۔ وہ جام نگر کی بی جے پی ایم ایل اے ہے۔ دونوں کی ایک بیٹی ہے جس کا نام ندھیانا جڈیجہ ہے۔

ایک خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے رویندر جڈیجہ کے والد انیرودھ سنگھ جڈیجہ نے دعویٰ کیا کہ بیٹے اور بہو کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا ’’کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو ایک سچ بتاؤں؟ میرا رویندر اور اس کی بیوی ریوابا کے ساتھ قطعی طور پر کوئی رشتہ نہیں ہے، ہم انہیں فون نہیں کرتے اور وہ ہمیں فون نہیں کرتے۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ شادی کے دو تین ماہ بعد ہی ان کے گھر میں مسائل شروع ہو گئے۔ میں فی الحال جام نگر میں اکیلا رہتا ہوں، جب کہ رویندر اسی شہر میں اپنے ایک بنگلے میں اپنی بیوی اور بچی کے ساتھ رہتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا ’’وہ اسی شہر میں رہتا ہے، لیکن مجھے اس سے ملنے کا موقع نہیں ملا۔ میں نہیں جانتا کہ اس کی بیوی نے اس پر کیا جادو کیا ہے۔ کاش میں رویندر جڈیجہ کی شادی اس لڑکی سے نہیں کرتا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ یہ بھی بہتر ہوتا کہ وہ کرکٹر نہ بنتا۔ اس صورت میں ہمیں ان سب سے گزرنا نہیں پڑتا۔ انہوں نے ریوابا جڈیجہ پر الزام لگایا کہ اس نے ساری دولت اپنے نام کرلینے کے لئے پورے خاندان میں دراڑ پیدا کردی۔ شادی کے صرف تین ماہ میں اس نے مجھ سے کہا کہ سب کچھ اس کے نام منتقل کر دیا جائے۔

اس نے ہمارے خاندان میں دراڑ پیدا کر دی۔ وہ خاندان میں رہنا نہیں چاہتی تھی اور ایک آزاد زندگی چاہتی تھی۔

انیرودھ جڈیجہ نے مزید کہا کہ میں غلط ہو سکتا ہوں اور نینابہ (رویندر کی بہن) بھی غلط ہو سکتی ہیں، لیکن آپ مجھے بتائیں، ہمارے خاندان کے تمام 50 افراد کیسے غلط ہو سکتے ہیں؟

انیرود سنگھ جڈیجا نے دعوی کیا کہ خاندان میں کسی کا کسی سے کوئی رشتہ نہیں ہے؛ اب صرف نفرت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ سال ہوگئے، میں اپنی پوتی سے بھی نہیں مل سکا ہوں۔ میں جام نگر کے ایک ٹو بیڈروم فلیٹ میں رہتا ہوں جہاں کرکٹر بننے سے پہلے رویندر جڈیجہ بھی رہتا تھا۔ اس فلیٹ میں ابھی بھی رویندر نے کچھ کپڑے اور ٹرافیاں موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں سنگین مالی مسائل کا بھی سامنا ہے۔ وہ اپنی مرحومہ بیوی کے پنشن پر گزارہ کررہے ہیں جو ماہانہ 20 ہزار روپے وصول ہوتا ہے۔ 

انہوں نے ماضی کی کچھ باتوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ کس طرح انہوں نے ایک چوکیدار کی نوکری کرتے ہوئے رویندر جڈیجہ کو کرکٹر بنانے کے لئے سخت محنت کی تھی۔

کرکٹر بننے کے بعد ہم نے ایک ریستوران بھی کھولا تھا جسے میری بیٹی نینابا چلاتی تھی۔ مگر جیسے ہی ہم نے رویندر جڈیجہ کی شادی کی، اس کے تین ماہ کے اندر خاندان میں لڑائی جھگڑے شروع ہوگئے۔ جڈیجہ کی بیوی ریوابا نے سب سے پہلے ریستوران اس کے نام منتقل کرنے کا مطالبہ کیا اور نینابا نے ریستوران اس کے نام کردیا۔

یہ لڑائی جھگڑوں اور اختلافات کی صرف شروعات تھی۔ اس کے بعد ہمارا پورا خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا۔ انیرودھ جڈیجہ نے بتایا کہ ریوابا کے والدین کا بھی ہمارے معاملات میں عمل دخل شروع ہوگیا اور وہ آج دو کروڑ روپے مالیتی بنگلے میں رہتے ہیں جو رویندر جڈیجہ کی کمائی سے خریدا گیا ہے۔

اسی دوران کرکٹر رویندر جڈیجہ نے اپنے والد کے تبصروں، انکشافات اور الزامات کا جواب دیتے ہوئے ایک ٹویٹ کیا جس میں اس نے کہا ہے کہ یہ سب اس کی بیوی ریوابا کو بدنام کرنے کے لئے کیا جارہا ہے۔

اس نے اس انٹرویو کی مذمت کی اور کہا کہ اس کے نزدیک یہ ایک بے معنی اور جھوٹ پر مبنی انٹرویو ہے۔  اس نے انٹرویو کو بیہودہ قرار دیا اور کہا کہ اس میں کہی گئی تمام باتیں بے معنی اور جھوٹی ہیں۔ تمام باتیں یکطرفہ طور پر کہی گئی ہیں جن کی میں تردید کرتا ہوں۔ یہ سب میری بیوی کے امیج کو خراب کرنے کی کوشش ہے جو قابل مذمت ہے۔

رویندر جڈیجہ کا مزید کہنا ہے کہ اس کے پاس بھی کہنے کے لئے بہت کچھ ہے تاہم یہ سب عوامی طور پر نہ کہا جائے تو بہتر ہے۔