موسیٰ ریور فرنٹ پروجیکٹ،ناموروکیل راماراؤ امینینی انسانی حقوق کمیشن سے رجوع
شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ لنگر حوض، نارسنگی اور رام دیو گوڑہ جیسے علاقوں میں بغیر کسی جامع مطالعہ کے صدیوں پرانے ہزاروں درختوں کو بے رحمی سے کاٹا جا رہا ہے جبکہ حکومت نے اس منصوبہ کے آغاز سے قبل ماحولیاتی اور سماجی اثرات کے سلسلہ میں کوئی سروے بھی نہیں کروایا۔
حیدرآباد: تلنگانہ حکومت کی جانب سے موسیٰ ندی کی ترقی کے لئے شروع کئے گئے موسیٰ ریور فرنٹ پروجیکٹ کے خلاف قومی انسانی حقوق کمیشن سے انسانی حقوق کے نامور وکیل راماراؤ امینینی رجوع ہوئے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ اس پروجیکٹ کے نام پر ندی کے ساحلی علاقوں میں بڑے پیمانہ پر ماحولیاتی تباہی مچائی جا رہی ہے جسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔
شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ لنگر حوض، نارسنگی اور رام دیو گوڑہ جیسے علاقوں میں بغیر کسی جامع مطالعہ کے صدیوں پرانے ہزاروں درختوں کو بے رحمی سے کاٹا جا رہا ہے جبکہ حکومت نے اس منصوبہ کے آغاز سے قبل ماحولیاتی اور سماجی اثرات کے سلسلہ میں کوئی سروے بھی نہیں کروایا۔
وکیل راماراؤ نے واضح کیا کہ موسیٰ ندی کے کناروں کو اس طرح تباہ کرنے سے وہاں بسنے والے لوگوں کے روزگار اور زندگی پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے این ایچ آر سی سے اپیل کی ہے کہ موسیٰ ریور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر ای وی نرسمہا ریڈی کو درختوں کی کٹائی فوری طور پر روکنے کے احکامات جاری کئے جائیں اور ماحولیات کو نقصان پہنچانے والے تمام کام بند کروائے جائیں۔
اس کے علاوہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس پروجیکٹ سے متاثر ہونے والے خاندانوں کو مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے۔ قومی انسانی حقوق کمیشن نے اس شکایت کو قبول کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، اس پر ردعمل دیتے ہوئے راماراؤ امینینی نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ کے معاملہ میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور موسیٰ ندی کے تحفظ کے لئے ان کی قانونی جنگ جاری رہے گی۔