ڈیجیٹل راشن کارڈ کی تقسیم کے دوران ہنگامہ، بی جے پی اور کانگریس کارکنوں میں دھکم پیل
ڈیجیٹل راشن کارڈز کی تقسیم کے اس پروگرام میں ریاستی حکومت کے مشیر محمد علی شبیر کے علاوہ ضلع کے ارکانِ اسمبلی پائل شنکر، انیل جادھو اور ویدما بوجو بھی موجود تھے۔
حیدرآباد: عادل آباد ضلع مرکز میں ہفتہ کے روز یومِ آزادی کے موقع پر منعقدہ ڈیجیٹل راشن کارڈز کی تقسیم کا پروگرام اس وقت کشیدہ ہوگیا جب بی جے پی اور کانگریس کارکنوں کے درمیان نعرے بازی کے بعد دھکم پیل شروع ہوگئی۔
ڈیجیٹل راشن کارڈز کی تقسیم کے اس پروگرام میں ریاستی حکومت کے مشیر محمد علی شبیر کے علاوہ ضلع کے ارکانِ اسمبلی پائل شنکر، انیل جادھو اور ویدما بوجو بھی موجود تھے۔
پروگرام کے دوران بی جے پی کارکنوں نے راشن کارڈ پر وزیرِ اعظم نریندر مودی کی تصویر شائع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگانا شروع کردیئے۔ بی جے پی کارکنوں کا کہنا تھا کہ راشن چاول کی تقسیم میں مرکزی حکومت کا بھی بڑا حصہ ہے، اس لیے راشن کارڈ پر وزیرِ اعظم مودی کی تصویر لازمی طور پر ہونی چاہیے۔
بی جے پی کارکنوں کی نعرے بازی کے جواب میں موقع پر موجود کانگریس کارکنوں نے بھی نعرے لگانے شروع کردیئے۔ دونوں جانب سے نعرے بازی بڑھنے کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی اور کارکنوں کے درمیان دھکم پیل شروع ہوگئی۔ حالات کو دیکھتے ہوئے ڈیجیٹل راشن کارڈز کی تقسیم کا پروگرام کچھ دیر کے لیے روک دیا گیا۔
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بی جے پی کے بعض کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ بعد میں مقامی رکنِ اسمبلی پائل شنکر کی ہدایت پر حراست میں لیے گئے کارکنوں کو چھوڑ دیا گیا، جس کے بعد صورتحال معمول پر آگئی۔
کشیدگی ختم ہونے کے بعد حکام نے دوبارہ ڈیجیٹل راشن کارڈز کی تقسیم کا پروگرام شروع کردیا اور باقی کارروائی مکمل کی گئی۔ واقعے کے باعث کچھ دیر کے لیے پروگرام میں افراتفری کا ماحول رہا، تاہم پولیس کی مداخلت اور دونوں فریقوں کے کارکنوں کو قابو میں کرنے کے بعد صورتحال پر قابو پالیا گیا۔