پیدائش اور موت کے رجسٹریشن کیلئے اب قوانین ہوجائیں گے سخت، لوک سبھا میں ترمیمی بل منظور
دوسری طرف، دو سال سے زیادہ کی تاخیر کی صورت میں فرسٹ کلاس جوڈیشل مجسٹریٹ کے حکم پر ہی پیدائش یا موت کا رجسٹریشن ہوگا۔ فی الحال ایک سال بعد کسی بھی وقت تک متعلقہ علاقے کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ یا سب ڈویژنل مجسٹریٹ یا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ذریعے مقرر کردہ ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کا حکم ہی کافی تھا اور دو سال سے زیادہ کے لیے الگ سے کوئی بھی التزام نہیں تھا۔
نئی دہلی: لوک سبھا میں جمعہ کو اپوزیشن ارکان کے ہنگامے کے درمیان پیدائش اور موت کا رجسٹریشن (ترمیمی) بل 2026 بغیر کسی بحث کے منظور کر لیا گیا۔
اس بل میں تاخیر سے پیدائش اور موت کی رجسٹریشن کے لیے قوانین سخت کر دیے گئے ہیں۔ ایک سال سے زیادہ کی تاخیر لیکن دو سال کے اندر پیدائش یا موت کی رجسٹریشن کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ یا سب ڈویژنل مجسٹریٹ یا پھر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ذریعے مقرر کردہ ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کا حکم لازمی تھا جو تصدیق کے بعد یہ حکم دینے کے لیے مجاز ہے۔
دوسری طرف، دو سال سے زیادہ کی تاخیر کی صورت میں فرسٹ کلاس جوڈیشل مجسٹریٹ کے حکم پر ہی پیدائش یا موت کا رجسٹریشن ہوگا۔ فی الحال ایک سال بعد کسی بھی وقت تک متعلقہ علاقے کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ یا سب ڈویژنل مجسٹریٹ یا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ذریعے مقرر کردہ ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کا حکم ہی کافی تھا اور دو سال سے زیادہ کے لیے الگ سے کوئی بھی التزام نہیں تھا۔
ایک بار کے التوا کے بعد دوپہر 12 بجے کارروائی جب دوبارہ شروع ہوئی تو اپوزیشن ارکان 20 جولائی کو پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب مظاہرہ کر رہے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی کی جواب دہی متعین کرنے اور اس کے لیے حکم دینے والے کا نام ایوان میں بتانے کا مطالبہ کرتے ہوئے پھر ہنگامہ کرنے لگے۔
سماج وادی پارٹی کے ارکان ایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوے کی چوری کے معاملے پر شور شرابہ کر رہے تھے۔ صدارت کرنے والے افسر دلیپ سائکیا نے اسی دوران قانون سازی کے دستاویزات ایوان کی میز پر رکھوائے۔
انہوں نے ہنگامہ کر رہے ارکان سے شور شرابہ نہ کرنے اور ایوان کی کارروائی پرامن طریقے سے چلانے میں تعاون کرنے کی اپیل کی، لیکن شور شرابہ جاری رہا۔
اسی دوران مسٹر سائکیا نے امور داخلہ کے وزیر مملکت نتیا نند رائے سے پیدائش اور موت کا رجسٹریشن (ترمیم) بل، 2026 پیش کرنے کو کہا۔
بل پیش کیے جانے کے بعد صدارت کرنے والے افسر نے اس پر بحث کے لیے نام اور ترمیم کے نوٹس دینے والے ارکان کو پکارا۔ ان ارکان میں سے کسی کے بل پر اپنی بات نہ کہنے پر انہوں نے بل پر شق وار غور کرنے کا اعلان کیا۔
اس کے بعد مسٹر سائکیا نے مسٹر رائے کو بل منظور کرنے کی تجویز پیش کرنے کی اجازت دی۔ اپوزیشن ارکان کے شور شرابے کے درمیان ہی بل کو زبانی ووٹوں سے منظور کر لیا گیا۔
پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے اس پر کہا کہ اپوزیشن ارکان نے اتنے اہم بل پر بحث میں حصہ نہیں لیا اور وہ ایوان کے باہر جا کر کہیں گے کہ بغیر بحث کے بل منظور کرائے جا رہے ہیں۔
اپوزیشن ارکان کا یہ رویہ افسوسناک ہے۔ اس بارے میں بزنس ایڈوائزری کمیٹی کی میٹنگ میں بھی بحث کی گئی تھی لیکن اپوزیشن ارکان تعاون نہیں کر رہے ہیں۔ حکومت آگے بھی بل لائے گی اور اپوزیشن ارکان تب بھی ہنگامہ کریں گے، یہ اچھا نہیں ہوگا۔ عوام اس کے لیے ان سے جواب مانگے گی۔
اس کے بعد مسٹر سائکیا نے اپوزیشن ارکان سے کہا کہ ان کے تعاون کے بغیر ہی بل منظور کرنا پڑا۔ یہ روایت ٹھیک نہیں ہے۔ وہ اپنی اپنی نشستوں پر جائیں اور کارروائی چلانے میں تعاون کریں۔ ہنگامہ کر رہے ارکان پر ان کی اپیل کا کوئی اثر نہیں ہوا تو انہوں نے ایوان کی کارروائی پیر کی صبح 11 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔