حقائق چھپانے پرنوکری خطرے میں، ریلوے بھرتی پر اہم ہدایت
امیدواروں کو یہ بتانا ہوگا کہ آیا وہ کبھی دل، پھیپھڑوں، دمہ، تپ دق، مرگی، ذہنی امراض یا کسی دیگر سنگین بیماری میں مبتلا رہے ہیں
نئی دہلی: ریلوے میں ملازمت کے خواہش مند امیدواروں کے لیے بھرتی کے ضابطے مزید سخت کر دیے گئے ہیں اب ہر امیدوار کو طبی معائنے سے قبل اپنے صحت سے متعلق مکمل معلومات حلف نامے کی صورت میں فراہم کرنا ہوں گی ریلوے بورڈ نے ہندوستانی ریلوے میڈیکل مینوئل کے تحت سیلف ڈیکلریشن فارم کا نیا فارمیٹ نافذ کر دیا ہے، جو آئندہ تمام بھرتیوں میں لازمی ہوگا۔
ریلوے بورڈ کے مطابق اس فیصلے کا مقصد بھرتی کے عمل کو مزید شفاف اور محفوظ بنانا ہے۔ نئی ہدایات میں اسسٹنٹ لوکو پائلٹ کی بھرتی اور نظر کی اصلاح کے لیے کرائی جانے والی لیزر آنکھوں کی سرجری سے متعلق ضابطے بھی شامل کیے گئے ہیں۔
نئے ضابطوں کے تحت امیدواروں کو یہ بتانا ہوگا کہ آیا وہ کبھی دل، پھیپھڑوں، دمہ، تپ دق، مرگی، ذہنی امراض یا کسی دیگر سنگین بیماری میں مبتلا رہے ہیں۔ انہیں طویل علاج، اسپتال میں داخلے، سر پر شدید چوٹ یا آنکھوں کی کسی سرجری کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔
اس کے علاوہ امیدواروں کو ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، بولنے میں دشواری، منشیات یا شراب کے استعمال اور کسی سرکاری ملازمت میں طبی بنیاد پر نااہل قرار دیے جانے سے متعلق معلومات بھی دینی ہوں گی۔
سیلف ڈیکلریشن فارم میں امیدوار کو تصدیق کرنا ہوگی کہ فراہم کردہ تمام معلومات درست اور مکمل ہیں اور اس نے کسی بیماری کی بنیاد پر معذوری کا سرٹیفکیٹ یا پنشن حاصل نہیں کی۔
ریلوے بورڈ نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی امیدوار بیماری یا دیگر اہم معلومات چھپاتا ہے یا غلط معلومات فراہم کرتا ہے تو اس کی تقرری فوری طور پر منسوخ کی جا سکتی ہے۔ اگر تقرری کے بعد ایسی معلومات سامنے آئیں تو ملازمت ختم کرنے کے ساتھ ضابطوں کے مطابق ریٹائرمنٹ سے متعلق فوائد بھی روکے جا سکتے ہیں۔
ریلوے حکام کے مطابق نئی پالیسی سے بھرتی کے عمل کی شفافیت میں اضافہ ہوگا اور حساس عہدوں پر صرف مکمل طور پر طبی لحاظ سے اہل امیدواروں کی تقرری یقینی بنائی جا سکے گی۔