’وندے ماترم‘ کی توہین اب جرم! راجیہ سبھا سے متنازع بل منظور، 3 سال تک قید کی سزا کی راہ ہموار
بل کی منظوری کے دوران ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ اپوزیشن جماعتوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی عدم موجودگی پر سخت اعتراض کیا اور مطالبہ کیا کہ وہ ایوان میں آ کر دہلی میں نیٹ (NEET) پرچہ لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر مبینہ پولیس کارروائی کے معاملے پر جواب دیں۔
نئی دہلی: راجیہ سبھا نے چہارشنبہ، 29 جولائی کو "قومی اعزاز کی توہین کی روک تھام (ترمیمی) بل 2026” منظور کر لیا، جس کے تحت قومی نغمہ "وندے ماترم” کی توہین کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس بل کے منظور ہونے کے بعد اب "وندے ماترم” کو بھی قومی ترانے "جن گن من” کی طرح قانونی تحفظ حاصل ہو جائے گا۔
بل کی منظوری کے دوران ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ اپوزیشن جماعتوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی عدم موجودگی پر سخت اعتراض کیا اور مطالبہ کیا کہ وہ ایوان میں آ کر دہلی میں نیٹ (NEET) پرچہ لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر مبینہ پولیس کارروائی کے معاملے پر جواب دیں۔
دوپہر کے اجلاس کے آغاز پر ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے احتجاج کرنے والے ارکان سے ایوان کا وقار برقرار رکھنے کی اپیل کی، تاہم اپوزیشن نے نعرے بازی جاری رکھی۔ اس دوران بل پر بحث اور منظوری کا عمل جاری رہا۔
بعد ازاں جب مرکزی وزیر مملکت برائے سماجی انصاف رام داس اٹھاولے بل پر اظہارِ خیال کر رہے تھے تو اپوزیشن جماعتوں نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔
بل پر جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے کانگریس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی خوشامدی سیاست کی خاطر ملک کے قومی اعزاز اور قومی نغمے "وندے ماترم” کی توہین کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزادی کی جدوجہد کے دوران متعدد مجاہدین آزادی نے اپنی جان قربان کرتے وقت آخری الفاظ کے طور پر "وندے ماترم” کا نعرہ بلند کیا تھا، اس لیے اس قومی نغمے کی عزت اور تحفظ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
نتیانند رائے نے مزید کہا کہ "ایک بھارت، شریشٹھ بھارت” کے تصور کو مضبوط بنانے کے لیے "وندے ماترم” کی اہمیت انتہائی زیادہ ہے، جبکہ ملک کے نوجوان اپوزیشن کا رویہ دیکھ رہے ہیں۔
اس ترمیمی قانون کے تحت قومی پرچم، آئین، قومی ترانے اور اب قومی نغمہ "وندے ماترم” کی بے حرمتی، توہین یا دانستہ بے ادبی ایک فوجداری جرم تصور کی جائے گی، جس پر تین سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔
یہ بل 24 جولائی کو راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام "وندے ماترم” کے 150 سالہ جشنِ تاسیس کے موقع پر قومی نغمے کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
بل اس سے قبل لوک سبھا سے بھی منظور ہو چکا تھا، اور اب راجیہ سبھا کی منظوری کے بعد اس کے قانون بننے کی راہ مزید ہموار ہو گئی ہے۔