امریکہ و کینیڈا

امریکہ میں غیر ملکی طلبہ کے لیے بڑا فیصلہ؟  ملازمت کیلئے فیس کی تجویز

یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے H-1B ویزا رکھنے والوں سے بھی ایک لاکھ ڈالر فیس وصول کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ تاہم اس اقدام کو امریکی عدالت میں چیلنج کیا گیا اور عدالت نے اس فیس کے نفاذ کو مسترد کر دیا۔

واشنگٹن: امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی طلبہ کے لیے ٹرمپ انتظامیہ ایک بڑا اور اہم فیصلہ کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، امریکی یونیورسٹیوں سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد امریکہ میں ہی ملازمت جاری رکھنے کے خواہش مند غیر ملکی طلبہ سے ایک لاکھ ڈالر تک کی فیس وصول کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے اس تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، غیر ملکی طلبہ امریکہ میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد OPT یعنی Optional Practical Training پروگرام کے تحت کچھ مدت تک امریکہ میں رہ کر کام کر سکتے ہیں۔ یہ پروگرام F-1 اسٹوڈنٹ ویزا کا ایک توسیعی راستہ سمجھا جاتا ہے۔

OPT پروگرام کے تحت اہل غیر ملکی طلبہ کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد عام طور پر تین سال تک امریکہ میں کام کرنے کا موقع مل سکتا ہے، خاص طور پر ان طلبہ کو جن کی تعلیم مخصوص شعبوں میں ہو۔

سال 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 4 لاکھ 19 ہزار غیر ملکی طلبہ OPT پروگرام کے تحت امریکہ میں کام کر رہے تھے۔

یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے H-1B ویزا رکھنے والوں سے بھی ایک لاکھ ڈالر فیس وصول کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ تاہم اس اقدام کو امریکی عدالت میں چیلنج کیا گیا اور عدالت نے اس فیس کے نفاذ کو مسترد کر دیا۔

اب ٹرمپ انتظامیہ مبینہ طور پر ایک نیا راستہ تلاش کر رہی ہے، جس کے تحت H-1B کے بجائے غیر ملکی طلبہ کے لیے OPT پروگرام پر زیادہ فیس عائد کی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب امریکہ کی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے H-1B ویزا پر ایک لاکھ ڈالر کی فیس عائد کرنے کی مخالفت کی تھی۔ یہ کمپنیاں امریکی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل طلبہ کو بڑی تعداد میں روزگار کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔

اگر OPT پر ایک لاکھ ڈالر کی فیس کی یہ تجویز نافذ ہوتی ہے تو امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے ہزاروں غیر ملکی طلبہ، خاص طور پر بھارتی طلبہ، پر اس کا بڑا مالی اثر پڑ سکتا ہے۔