مذہب
ٹرینڈنگ

سانپ کو مارنا اور حدیث

اگر سانپ حملہ کرے ، یا اندازہ ہو کہ یہ پہلے سے یہاں بسیرا کئے ہوئے ہے ، یا خطرہ ہو کہ کسی کو ڈس سکتا ہے ،تو اس کو متنبّہ کیے بغیر مار ڈالا جائے تو حرج نہیں ،

سوال:- کیا حدیث میں یہ بات آئی ہے کہ آدمی سانپ کو دیکھے تو اس پر حملہ نہ کرے ، بلکہ پہلے اس سے خواہش کرے کہ وہ چلا جائے ، اور اس کو حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلا م کا حوالہ دے ،

متعلقہ خبریں
گائے کے پیشاب سے علاج
فجر کی اذان تک سحری کھانا
ناپاکی کا دھبہ صاف نہ ہو
مذہب کے نام پر مسلمانوں کو تحفظات، وزیر اعظم کا الزام گمراہ کن: محمد علی شبیر
شادی شدہ خاتون از خود خلع نہیں لے سکتی

ایسے میں تو خطرہ ہے کہ سانپ نکلے ، اور کسی آدمی کو ڈس لے ؟اس کا کیا حکم ہے اور یہ حدیث کس درجہ کی ہے ، نیز اس میں صرف دو پیغمبروں کے نام کیو ں لیے گئے ہیں ؟ ( دبیر احمد، سنتوش نگر )

جواب : اس سلسلہ میں بعض روایات موجود ہیں ، ترمذی میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے : إذا ظہرت الحیۃ في المسکن فقولوہا إنا نسئلک بعہد نوح ، و بعہد سلیمان بن داؤد أن لا تؤذینا ، فإن عادت فاقتلوہا ‘‘(ترمذی، حدیث نمبر: ۱۴۵۸)

’’جب رہائشی جگہ میں سانپ نکلے تو اس سے کہو ہم تم کو حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام کا واسطہ دے کر کہتے ہیں کہ ہمیں تکلیف نہ پہنچاؤ ، اگراس کے باوجود دوبارہ آئے تو اسے مار ڈالو ‘‘۔


زیادہ تر شارحین کے یہاں یہ حکم بطورِ استحباب کے ہے ، اور قاضی ابو الحسن ماوردی ، اورقاضی عیاض نے اس کے بارے میں کہا ہے کہ یہ خاص مدینہ کے سانپ کے لیے ہے ،

نیز بعض حضرات کا خیال ہے کہ یہ منسوخ ہے ، اصل میں اللہ تعالیٰ نے جنوں کو یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ سانپ یا کسی اور مخلوق کی صورت اختیار کرلیں ؛ اس لیے احتیاطا یہ حکم دیا گیا ہے ،

اگر سانپ حملہ کرے ، یا اندازہ ہو کہ یہ پہلے سے یہاں بسیرا کئے ہوئے ہے ، یا خطرہ ہو کہ کسی کو ڈس سکتا ہے ،تو اس کو متنبّہ کیے بغیر مار ڈالا جائے تو حرج نہیں ،

حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کا حوالہ اس لیے دیا جاتا ہے کہ مخلوقاتِ عالم کی نسلوں کو باقی رکھنے کے لیے کشتیٔ نوح علیہ السلام میں ہر جانور کا جوڑا رکھا گیا تھا ، گویا وہ تمام مخلوقات کے محسن ہیں ،

اور حضرت سلیمان علیہ السلام کو تمام مخلوق پر حکومت عطا فرمائی گئی تھی ، انسانوں پر بھی اور جنوں پر بھی — اس حدیث کو امام ترمذیؒ نے حسن ، یعنی معتبر قرار دیا ہے ؛ لیکن اس میں ایک راوی قاضی عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ آئے ہیں ، جن پربہت سے محدثین کوکلام ہے ؛ اس لیے بہت سے اہلِ علم اس روایت کو معتبر نہیں مانتے ۔