مذہب

ناپاکی کا دھبہ صاف نہ ہو

اگر ایسی نجاست ہو کہ اس کا اثر اور دھبہ بآسانی دور کیا جاسکتا ہو ، تو اس دھبہ کا دور کرنا ضروری ہے

سوال:- کسی کپڑے پر ناپاک دھبہ ہو ، جو دھونے کے باوجود صاف نہ ہو ، تو کیا ان کپڑوں میں نماز جائز ہے ؟
( روبینہ انجم،کتہ پیٹ )

متعلقہ خبریں
حج کی محفوظ رقم اور زکوۃ
استقبالِ رمضان میں، نبی کریمؐ کا ایک جامع وعظ
گائے اسمگلنگ کا شبہ، 4 مسلمانوں پر حملہ
نماز تراویح
فُضلات سے تیار شدہ گیس

جواب:- اگر ایسی نجاست ہو کہ اس کا اثر اور دھبہ بآسانی دور کیا جاسکتا ہو ، تو اس دھبہ کا دور کرنا ضروری ہے اور اگر پانی کے علاوہ کسی اور چیز کی مدد لئے بغیر دھبہ دور کیا جانا ممکن نہ ہو جیسے خون ، تو اس دھبہ کا دور کرنا ضروری نہیں ۔

’’ وإن کانت شیئا لا یزول اثرہ الا بمشقۃ بان یحتاج في ازالتہ إلی شییٔ آخر سوی الماء کالصابون لا یکلف بازالتہ ‘‘ (الفتاوی الہندیۃ: ۴۲/۱)