امریکہ اور ایران کے درمیان ‘خفیہ سفارتکاری’ کا انکشاف
واشنگٹن نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران اپنی یورینیم افزودگی کا پروگرام فوری طور پر ختم کرے اور اگلے پانچ سال کے لیے اپنے میزائل پروگرام کو محدود کرنے کی ضمانت دے۔
واشنگٹن/تہران : ایک امریکی ویب سائٹ نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ شدید فوجی و سیاسی کشیدگی کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ رابطے اب بھی بحال ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے، تاہم قطر، مصر اور برطانیہ بیک چینل ڈپلومیسی کے ذریعے پیغامات کے تبادلے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق فریقین نے ایک دوسرے کے سامنے سخت شرائط رکھی ہیں۔
واشنگٹن نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران اپنی یورینیم افزودگی کا پروگرام فوری طور پر ختم کرے اور اگلے پانچ سال کے لیے اپنے میزائل پروگرام کو محدود کرنے کی ضمانت دے۔
تہران نے جنگ کے دوران ہونے والے مالی و جانی نقصانات کے بدلے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اگر امریکہ ایران کے منجمد اثاثے بحال کر دیتا ہے، تو ایران کی جانب سے ہرجانے کے مطالبے پر لچک دکھائے جانے اور مذاکرات میں پیش رفت کے امکانات موجود ہیں۔