سنسنی خیز فون ٹیپنگ معاملہ،سابق وزیراعلی تلنگانہ چندرشیکھرراو پوچھ گچھ کیلئے تیار
تازہ پیشرفت کے مطابق چندرشیکھرراونے کلکی تحقیقات میں شامل ہونے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ اس سے قبل انہوں نے ایک مکتوبکے ذریعہ درخواست کی تھی کہ ان سے ایراویلی میں واقع ان کے فارم ہوزپر پوچھ گچھ کی جائے تاہم حکام نے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔
حیدرآباد: تلنگانہ کی سیاست میں سنسنی پھیلانے والے فون ٹیپنگ کیس میں سابق وزیر اعلیٰ اور بی آر ایس کے سربراہ کے چندرشیکھرراو کو خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے نوٹس جاری کئے جانے کے بعد سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔
تازہ پیشرفت کے مطابق چندرشیکھرراونے کلکی تحقیقات میں شامل ہونے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ اس سے قبل انہوں نے ایک مکتوبکے ذریعہ درخواست کی تھی کہ ان سے ایراویلی میں واقع ان کے فارم ہوزپر پوچھ گچھ کی جائے تاہم حکام نے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔
ان کی عمر اور سیکیورٹی وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایس آئی ٹی حکام نے حیدرآباد کے نندی نگر میں واقع ان کی رہائش گاہ پر ہی پوچھ گچھکرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس معاملے پرمسٹرراو نے بی آر ایس کے اہم قائدین اور قانونی ماہرین کے ساتھ طویل مشاورت کی جس کے بعد انہوں نے جانچمیں تعاون کرنے کا فیصلہ کیا۔
طے شدہ پروگرام کے مطابق اتوار کی دوپہر ایس آئی ٹی کے عہدیدار ان کی رہائش گاہ پہنچ کر ان کا بیان ریکارڈ کریں گے اور اس تمام کارروائی کی ویڈیو گرافی کئے جانے کا امکان ہے۔
بلدی انتخابات کے موقع پر ان نوٹسوں کے اجرائی پر بی آر ایس کے کارکنوں میں سخت برہمی پائی جاتی ہے اور پارٹی قائدین اسے کانگریس حکومت کی سیاسی انتقامی کارروائی قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب چندرشیکھرراو کا ماننا ہے کہ تحقیقات میں تعاون کے ذریعہ حقائق سامنے لائے جا سکتے ہیں۔